طلبا کیلئے خوشخبری، حکومت نے مفت لیپ ٹاپ سکیم میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کردی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی 2025ء ) وفاقی حکومت نے مفت لیپ ٹاپ سکیم میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کردی۔ تفصیلات کے مطابق طالب علموں کیلئے خوشخبری ہے کہ حکومت نے پرائم منسٹر لیپ ٹاپ سکیم میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی ہے، نئی تاریخ کے تحت اب طلبا یکم جون 2025ء تک سکیم میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، اس فیصلے سے ان طلبا کو بھی موقع ملے گا جو ابتدائی تاریخ تک درخواست نہیں دے سکے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت جاری اس سکیم کا مقصد ملک بھر میں تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبا کو ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنا ہے، نئی ڈیڈ لائن طلباء کے لیے اپنی ڈیجیٹل خواندگی اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئی راہ ہموار کرتی ہے، حکومت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر 2025ء کے لیے اس سکیم کا دوبارہ آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ایک لاکھ لیپ ٹاپ مستحق اور اہل طلبا میں تقسیم کرنا ہے، اس سلسلے میں ابتدائی طور پر درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 20 مئی 2025ء مقرر کی گئی تھی تاہم اب اس میں توسیع کر دی گئی ہے۔(جاری ہے)
بتایا جارہا ہے کہ سکیم کو ملک بھر میں طلبا کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے اور ہزاروں طلبا نے اپنی درخواستیں کامیابی کے ساتھ جمع کرائی ہیں، حکومت کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کے طریقہ کار کے مطابق پی ایچ ڈی، ایم ایس/ایم فل، ماسٹرز اور بیچلرز پروگرامز میں زیر تعلیم طلبا درخواست دینے کے اہل ہیں، درخواست دہندگان کے لیے کم از کم CGPA 2.80 یا 60 فیصد نمبرز ہونا ضروری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پہلے سال کے طلبا کو انٹرمیڈیٹ (HSSC) کے نتائج جمع کروانے ہوں گے، جب کہ ایم ایس یا پی ایچ ڈی کے طلبا کو اپنی سابقہ ڈگری کی ٹرانسکرپٹس فراہم کرنا ہوں گی اور جو طلبا پہلے ہی گریجویٹ ہو چکے ہیں وہ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، لیپ ٹاپس کی تقسیم مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے تحت متعلقہ محکموں اور ڈگری پروگراموں میں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سکیم میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع حکومت نے لیپ ٹاپ طلبا کو کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔