سیاحت، موت اور خاموش پہاڑ : گلگت بلتستان میں جاں بحق چار دوستوں کی لاشیں کیسے ملیں؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
گلگت بلتستان کی بلند و بالا چٹانوں، دلکش وادیوں اور جادوئی فضاؤں نے ایک بار پھر اپنے پاس آنے والوں کو ہمیشہ کیلئے اپنے پاس ہی روک لیا۔ پنجاب کے شہر گجرات سے شمالی علاقہ جات کی سیاحت کے لیے آنے والے چار دوست، جو خوشیوں سے بھرے گھر سے نکلے تھے، اب سرد لاشوں کی صورت واپس لوٹ رہے ہیں۔ وہ جو ہنستے کھیلتے گلگت کی وادیوں میں داخل ہوئے تھے، وہ جو زندگی کی رنگینیوں سے لبریز تھے، وہ اب زندگی کی سب سے تاریک کہانی بن چکے ہیں۔
سلیمان نصراللہ، واصف شہزاد، عمر احسان اور عثمان کا تعلق گجرات سے تھا۔ یہ نوجوان 12 مئی کو سفید رنگ کی ہونڈا سیوک نمبر 805-ANE پر اپنے شہر سے روانہ ہوئے تھے۔ ابتدا میں ان کا سفر حسین اور یادگار رہا۔ دنیور میں قیام کے بعد انہوں نے 15 مئی کی رات گلگت سے سکردو کا رخ کیا، مگر پھر ایسا اندھیرا چھایا جو ایک ہفتے تک چھٹ نہ سکا۔ 16 مئی کی صبح ان کا آخری بار رابطہ ہوا، اس کے بعد ان کے موبائل بند ہو گئے، اور جیسے وہ زمین کھا گئی ہو یا آسمان نگل گیا ہو — کوئی سراغ، کوئی آواز، کچھ نہ بچا۔
پولیس، ریسکیو ٹیمیں، سیکیورٹی ادارے دن رات انہیں تلاش کرتے رہے۔ گلگت سے سکردو تک کے تمام راستے چھان مارے گئے، لیکن زندگی کے ہر شور سے دور وہ موت کی آغوش میں سو چکے تھے۔
بالآخر گنجی پڑی کے مقام پر ان کی گاڑی سیکڑوں فٹ گہری کھائی میں ملی۔ چاروں دوست موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ گاڑی کا کچھ پتہ نہ چلنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ایسے مقام پر گری جہاں سے نیچے دیکھنا بھی ممکن نہ تھا — گویا قدرت نے ان کے وجود کو چھپا دیا ہو۔
مرنے والے تین دوست قریبی رشتہ دار بھی تھے۔ عمر احسان، کوٹ گھکہ کا اکیس سالہ نوجوان، اسکول ٹیچر احسان کا لخت جگر تھا۔ اس کے ساتھ اس کا پھوپھی زاد سلیمان نصراللہ، جسوکی کا رہائشی، جو چند ماہ قبل اٹلی سے چھٹیاں گزارنے آیا تھا۔ ان کے ہمراہ عمر کا بہنوئی، بیالس سالہ واصف شہزاد بھی تھا، جو دو معصوم بیٹیوں کا باپ تھا۔ چوتھا دوست عثمان، ساروکی کا رہائشی، ان سب کا پرانا ہمسفر تھا۔ سب نے ایک ساتھ سفر کیا، ایک ساتھ ہنسے، ایک ساتھ خواب دیکھے — اور اب ایک ساتھ موت کی وادی میں اتر گئے۔
حادثہ گنجی پڑی کے قریب پیش آیا جہاں بل کھاتی سڑکیں اور اندھی کھائیاں اکثر موت کا باعث بنتی ہیں۔ بلتستان شاہراہ کو بلاوجہ خونی سڑک نہیں کہا جاتا۔ یہ سڑک کسی کالی سانپ کی مانند پہاڑوں میں لپٹی، بل کھاتی، موت کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ یہاں گاڑیوں کو آہستہ، ہوشیاری اور چوکسی سے چلانا لازم ہے، مگر بعض اوقات ذرا سی لغزش انسان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتی ہے۔
حادثے کی منظرکشی دل دہلا دیتی ہے۔ سامنے آنے والی تصاویر کے مطابق تین دوست گاڑی کے اندر ہی کچلے گئے، جب کہ چوتھا دوست گاڑی سے نکل کر کسی چٹان کے سائے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور شاید آخری سانسوں تک زندگی کیلئے لڑتا رہا۔ ممکن ہے اس نے بچاؤ کے لیے کچھ سوچا ہو، خدا کو یاد کیا ہو، یا بس آخری لمحے خاموشی سے موت کا سامنا کیا ہو۔ مگر قدرت نے اسے بھی نہیں بخشا۔
ایک تصویر میں ممکنہ طور پر تھکن سے چور نوجوان کو گاڑی کی کھڑکی سے سر ٹکائے سوتے بھی دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان تھکے ہوئے تھے۔
جائے حادثہ کا معائنہ کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ ڈرائیور کی ناتجربہ کاری، ڈرائیونگ کے دوران نیند آنے اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا ہوگا۔ جس جگہ یہ حادثہ پیش آیا وہاں سڑی کنارے حفاظتی دیوار یا جنگلے نہیں ہیں۔ اہلکاروں نے کہا کہ اگر اس جگہ مناسب حفاظتی انتظامات ہوتے تو شاید حادثے میں قیمتی جانوں کا نقصان نہ ہوتا یا کم از کم وہاں حادثے کے آثار ملنا ممکن ہوتا۔
سات دن گزر گئے۔ پہاڑوں میں مکمل خاموشی چھائی رہی۔ چیلیں اور گِدھیں ہی وہ پہلا اشارہ بنیں جنہوں نے انسانوں کو متوجہ کیا۔ پرندوں کی غیر معمولی موجودگی نے ان کی موجودگی کا راز کھول دیا۔ لاشیں نکال لی گئیں، مگر گھروں میں جو صف ماتم بچھی، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
گجرات کے ان گھروں میں جہاں کبھی ان نوجوانوں کی قہقہے گونجتے تھے، اب صرف آہ و بکا باقی ہے۔ ایک ماں کا لعل، ایک باپ کا سہارا، ایک بہن کا خواب، ایک بچے کا باپ — سب کچھ لُٹ گیا۔ جو ایک لمحے کے حادثے نے چھینا، وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔
اس حادثے نے ایک بار پھر گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خطرناکی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سیاحوں سے گزارش ہے کہ یہاں گاڑی چلاتے وقت انتہائی احتیاط کریں۔ ایک طرف بلند پہاڑ، دوسری طرف گہری کھائیاں، اور درمیان میں صرف ایک گاڑی کی گزرگاہ۔ ایسے میں ذرا سی بےاحتیاطی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ کسی کو جلدی پہنچنے کی نہیں، بلکہ محفوظ پہنچنے کی ضرورت ہے۔ ایل ای ڈی لائٹس کا بےجا استعمال، تیز رفتاری اور مسلسل ڈرائیونگ، یہ سب کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
زندگی ایک امانت ہے۔ یہ راستے، یہ پہاڑ، یہ وادیاں خوبصورت ضرور ہیں، مگر ان کے سینے میں بے شمار راز دفن ہیں۔ کہیں ان چار دوستوں کی طرح کسی اور کا ہنستا کھیلتا چہرہ نہ خاموش ہو جائے۔ اس لیے سفر کریں، دیکھیں، محظوظ ہوں، مگر ہمیشہ محتاط رہیں۔ کیونکہ ایک لمحے کی بے خبری، ایک قدم کی لغزش، اور سب کچھ ختم۔۔۔ ہمیشہ کے لیے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز