اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 مئی 2025ء) میکسیکو میں اتوار کو ووٹرز کئی ہزار وفاقی، ضلعی اور مقامی ججوں اور مجسٹریٹوں کا انتخاب کریں گے، جب کہ بقیہ ججوں کے لیے ایک اور الیکشن 2027 میں کرایا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ہر سطح پر ججوں اور مجسٹریٹوں، بشمول سپریم کورٹ کے لیے یہ غیر معمولی رائے دہندگی بدعنوانی اور بعض افراد کو حاصل استثنیٰ سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

گوگل میپس پر خلیج میکسیکو کو خلیج امریکہ کر دیا جائے گا

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرے گا۔ انہوں نے متنازعہ امیدواروں، مثلاﹰ بدنام زمانہ منشیات کے اسمگلر وکیل جوکون گزمین، کی شرکت پر متنبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہو گا۔

(جاری ہے)

لیکن ان عہدوں کے انتخاب میں ہر کوئی امیدوار نہیں ہو سکتا ہے۔

امیدوار کو قانون کی ڈگری، قانونی امور میں تجربہ، "اچھی ساکھ" کا حامل ہونا چاہیے اور کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے۔

مخالفین بشمول عدالتی کارکنان ان اصلاحات کو روکنے کی ناکام کوشش میں بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

میکسیکو انتخابات: شین بام ملک کی پہلی خاتون صدر ہوں گی

ایک 28 سالہ وکیل اولمپیا روزاس لوویانو نے کہا،”انصاف ایسی چیز نہیں ہے جیسا کہ آپ ووٹ کے ذریعہ نمائندہ منتخب کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے تجربہ اور خصوصی علم رکھنے والے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

"

لیکن ماریا ڈیل روکیو مورالس، جو دارالحکومت میں مجسٹریٹ بننے کے لیے بطور امیدوار قسمت آزما رہی ہیں، نے کہا کہ وہ الیکشن میں حصہ لینے پر خوش ہیں۔

انہوں نے کہا، "اپنے شہر اور اپنے ملک کی بھلائی کے لیے، میں یہ کروں گی۔"

صدر کلاڈیا شین بام نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ بہت سے ووٹروں کے ووٹنگ میں حصہ لینے کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا،" لوگ بہت ذہین ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ کس کو ووٹ دینے جا رہے ہیں۔"

نیا نظام کیسے کام کرے گا

سپریم کورٹ کی تمام نو نشستوں کے ساتھ ساتھ 19 ریاستوں میں تقریباً 1,800 مقامی عہدوں سمیت تقریباً 900 وفاقی عہدوں کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ 2027 میں ہو گا۔

ان نئے اصلاحات کے نفاذ سے پہلے، سپریم کورٹ کے ججوں کو صدر کے ذریعے نامزد کیا جاتا تھا اور سینیٹ میں ان کی منظوری دی جاتی تھی، جب کہ وفاقی ججوں کا انتخاب ایک عدالتی کمیشن کے ذریعے امتحانات اور انٹرویو کے ذریعے کیا جاتا تھا جو امیدواروں کی صلاحیت اور قابلیت کی جانچ کرتی تھی۔

نئے نظام میں، وفاقی امیدواروں کو حکومت کی تینوں شاخوں کی تشخیصی کمیٹیوں کے ذریعے جانچنے اور نامزد کرنے کے بعد عوام کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔

میکسیکو کی انتخابی اتھارٹی کے مطابق، دوسرے انتخابات کے برعکس، عدالتی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے والوں کو کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے نامزد یا حمایت نہیں کی جا سکتی ۔ وہ پبلک یا پرائیویٹ فنڈنگ ​​بھی حاصل نہیں کر سکتے ہیں، یعنی انہیں اپنی مہم کی مالی اعانت خود کرنی ہو گی-

اصلاحات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس شرط کی وجہ سے سیاسی عناصر کے انتخابات کو متاثر کرنے کے امکانات کم ہو جائیں گے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے اصلاحات امیر امیدواروں کے حق میں ہیں۔

امیدواروں کو ٹی وی یا ریڈیو پر مہم کے اشتہارات خریدنے سے بھی منع کیا گیا ہے، لیکن وہ سوشل میڈیا پر یا انٹرویوز اور دیگر فورمز کے ذریعے اپنی تشہیر کر سکتے ہیں۔

ایک بار عہدہ سنبھالنے کے بعد، منتخب ججوں کا جائزہ ایک نئے قائم کردہ جوڈیشل ڈسپلنری ٹریبونل کے ذریعے کیا جائے گا، جس کے پاس سپریم کورٹ کے ججوں اور الیکٹورل مجسٹریٹس کے علاوہ عدالتی عملے کی تحقیقات اور منظوری دینے کا اختیار ہو گا۔ ان میں سے کچھ معاملات میں معطل کرنے، مالی جرمانہ عائد کرنے، برطرف اور نااہل قرار دینے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے جائے گا کے لیے نے کہا

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی