طارق فاطمی کی روسی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات، وزیراعظم کا خط بھی پہنچایا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
بھارت کو سفارتی سطح پر بے نقاب کرنے کے مشن کے حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے دورہ روس کے آغاز پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، فلسطین جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے، طارق فاطمی
دفتر خارجہ کے مطابق طارق فاطمی نے روسی وزیر خارجہ کو دوطرفہ تعاون کو وسیع کرنے کے عزم سے آگاہ کیا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کا صدر پیوٹن کے نام خط بھی روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے حوالے کیا۔
طارق فاطمی نے روسی وزیر خارجہ کو وزیر اعظم کی نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔
معاون خصوصی نے روسی وزیر خارجہ کو دوطرفہ تعاون کو وسیع کرنے کے عزم سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں توانائی، کنیکٹیویٹی، تجارت پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات کے دوران روسی وزیر خارجہ کو جنوبی ایشیا میں کے صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
طارق فاطمی نے روسی وزیر خارجہ کے سامنے پاکستان کا نقطہ نظر بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ کو کم کرنے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے کشیدگی بڑھے گی۔
روسی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سرگئی لاوروف نے نیو اسٹیل ملز کے قیام سمیت دیگر اہم مشترکہ منصوبوں پر خصوصی زور دیا۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کو دہشتگردی کا شکار بنا دیا، طارق فاطمی
روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ انسداد دہشتگری میں مل کر کام کرنے اور ایس سی او کے فریم ورک کے اندر مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف طارق فاطمی کا دورہ روس وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف طارق فاطمی کا دورہ روس وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی روسی وزیر خارجہ کو طارق فاطمی نے سرگئی لاوروف معاون خصوصی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔