چینی صدر وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے ساتھ مل کر چین-وسطی ایشیا کے تعاون کے لیے ایک نیا خاکہ تیار کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
چینی صدر وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے ساتھ مل کر چین-وسطی ایشیا کے تعاون کے لیے ایک نیا خاکہ تیار کریں گے
بیجنگ ()
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف کی دعوت پر چینی صدر مملکت شی جن پھنگ 16 سے 18 جون تک قازقستان کے شہر آستانہ میں ہونے والے دوسری چین-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ آستانہ کا شمار دنیا کے نئے دارالحکومتوں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے قصبہ سے بڑھتے ہوئے اب اثر و رسوخ کے حامل ایک جدید شہر میں تبدیل ہو گیا ہے، جو قازقستان کی تیز رفتار ترقی کا ایک نمائندہ شہر ہے۔ اس بار چین-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس پہلی بار کسی وسطی ایشیائی ملک میں منعقد ہو رہا ہے ۔چین کے صدر شی جن پھنگ وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے سربراہان کے ساتھ مل کر چین-وسطی ایشیا کے تعاون کے لیے ایک نیا خاکہ تیار کریں گے، علاقائی امن و ترقی کے نئے مواقعوں کے دروازے کھولیں گے، ایک ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا میں قابل قدر یقین پیدا کریں گے اور انسانی تہذیب کی ترقی اور اس میں پیشرفت کے لیے ایک روشن مستقبل تخلیق کریں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چین وسطی ایشیا وسطی ایشیا کے کے لیے ایک کریں گے
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔