سٹی42:   بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے دہشتگردوں کی ساتھی  ماہ رنگ بلوچ کے کو گلوریفائی کرنے والا  ٹویٹ کرنے پر نوٹس جاری کیا ہے۔سردار اختر مینگل نے نہ صرف اس نوٹس کی تصدیق کی بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کی مالی معاونت کے الزام ان کے فوت ہونے والے بھائی سمیت خاندان کے متعدد دیگر افراد کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ 

مزید کروڑوں روپے کی بدعنوانیاں

 اختر مینگل نے اپنے جرم کا جواز یہ پیش کیا کہ ماہ رنگ کی گرفتاری کی انھوں نے اکیلے مذمت نہیں کی بلکہ متعدد دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ اس اقدام کو پاکستان اور حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

 ایف آئی اے کے نوٹس کے مطابق اس طرح انھوں نے ایک ایسے فرد کی سرگرمیوں کی ترویج کی جو کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی ہیں اور یہ سرگرمیاں حکومت اور عام عوام میں بے چینی، خوف، اور عدم استحکام پھیلانے کے مترادف ہیں, نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ معلومات غلط ہیں کو ایک انفارمیشن سسٹم کے ذریعے پھیلایا۔

"مسلمان یونی ورسٹی" مسلم دشمنی پر اتر آئی

 انھیں اس نوٹس کے ذریعے یہ کہا گیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں پیش ہو کر اس کی وضاحت کریں ورنہ یہ یقین کیا جائے گا کہ آپ کے پاس اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘
نوٹس کے مطابق اس کی عدم تعمیل بھی تعزیرات پاکستان کے سیکشن 174کے تحت قابل سزا ہے۔سردار اختر مینگل کو ایف آئی اے نے پیشی کے لیے 27 جون کا نوٹس جاری کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

 انھوں نے فون پر بتایا کہ ان کو یہ نوٹس 14 اپریل کو ایک ٹویٹ کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جب وہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کی دیگر خواتین کی گرفتاری کے خلاف پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنے پر بیٹھے تھے۔انھوں نے کہا کہ ان کے علاوہ ان کے دو بڑے بھائی میر ظفراللہ مینگل اور میر جاوید مینگل کے علاوہ ان کہ اہلیہ اور بچوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ہمارے اکائونٹس سے ڈاکٹر ماہرنگ کی مالی معاونت ہوئی ہے۔

ہیوی ٹرک نے 18 مزور لڑکیوں کو کچل کر موت کی وادی میں دھکیل ڈالا

 سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کے بڑے بھائی ظفر اللہ مینگل اس سال جنوری میں وفات پاگئے اور دماغی طور پر معزور ہونے کی وجہ سے ان کے نام پر کوئی اکائونٹ نہیں تھا جبکہ دوسرا بھائی میر جاوید مینگل دو دہائی سے زائد کے عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ان کی اہلیہ کی بات ہے وہ علیل ہیں اور گزشتہ چار سال سے کومے میں ہیں اور دبئی میں زیر تعلیم دو بچوں کو نام پر بھی نوٹسز ہیں جن کے نام پر تاحال کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے وکلا ان نوٹسز کا جواب پیر کے روز دائر کریں گے لیکن پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے یہ ان کا حق ہے کہ وہ کسی بھی بے انصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور وہ یہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔

بانی کے ساتھ جیل میں کیا ہو رہا ہے، حیران کن انکشافات

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سردار اختر مینگل انھوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف