WE News:
2026-07-24@09:00:58 GMT

ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ برقرار، سیلاب الرٹ جاری

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ برقرار، سیلاب الرٹ جاری

ملک کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بارشوں کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ژوب اور ہرنائی میں طوفانی بارشیں اور سیلاب، 4 افراد بہہ گئے، 3 خواتین بھی شامل

دریاؤں کے بہاؤ میں خطرناک اضافہ

گزشتہ 2 روز سے خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث دریائے کابل اور دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حکام کے مطابق، دریائے سوات کا سیلابی ریلا اب دریائے کابل میں شامل ہو چکا ہے، جس کے بعد پشاور، نوشہرہ اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

کراچی میں بارش کے 2 دن میں 8 اموات

کراچی میں مون سون بارشوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ گزشتہ 2 روز میں بارش سے جڑے مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں کرنٹ لگنے، دیواریں گرنے اور سڑک حادثات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی منظوری

شہری حکومت نے عوام سے غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

شمالی علاقہ جات میں گلیشیئر پگھلنے کا خدشہ

گلگت بلتستان میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہو چکا ہے، جس سے فلیش فلڈز (اچانک سیلاب) کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور عوام کو بروقت آگاہی دینے کی ہدایت کی ہے۔

پنجاب اور سندھ بھی خطرے کی زد میں

پنجاب کے نشیبی اضلاع، خصوصاً راجن پور، مظفر گڑھ، بہاولپور اور ڈی جی خان میں بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سندھ کے ساحلی اور جنوبی علاقوں میں بھی طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت

این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین معلومات پر نظر رکھیں، نشیبی علاقوں سے دور رہیں، اور ہنگامی صورتِ حال میں Rescue 1122 یا متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔

حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو 24 گھنٹے الرٹ رہنے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی پیشگی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

1122 این ڈی ایم اے بارش پاکستان دریائے سوات ریسکیو سیلاب محکمہ موسمیات مون سون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے پاکستان دریائے سوات ریسکیو سیلاب محکمہ موسمیات ڈی ایم اے علاقوں میں کی ہدایت

پڑھیں:

دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب

لاہور:

دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ چنیوٹ میں سیم نہر میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد فصلیں زیر آب آگئیں۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا۔

اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی جاری ہے۔

ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہا۔

دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔

مزید پڑھیں

بھارت کی جانب سے آبی جارحیت، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، الرٹ جاری

پنجاب میں مون سون کا سلسلہ برقرار، مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہے۔

ہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔

دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہے۔

نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

دوسری جانب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریائے چناب میں بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔

ڈی جی نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامات مکمل ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب