چین نے پاکستان کا 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)چین نے پاکستان کا 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور کردیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق قرض رول اوور کرنے کے بعد پاکستان کے ذرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
خبررساں ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس گزشتہ 3 سال سے موجود 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کو رول اوور کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے 2 ماہ قبل واپس کیے گئے ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے کمرشل قرضوں کو بھی ری فنانس کیا گیا ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے ایک ارب ڈالر اور 50 کروڑ ڈالر دیگر ملٹی لیٹرل فنانسنگ سے حاصل ہوچکے ہیں۔خبررساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف شرائط کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک 14 ارب ڈالر سے اوپر رکھنے ہیں۔
سابق امریکی سفارتکار رچرڈ باؤچر انتقال کر گئے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خبررساں ایجنسی کروڑ ڈالر رول اوور کے مطابق
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔