Jasarat News:
2026-06-03@08:00:59 GMT

ڈاکو راج کے سامنے بے بس حکومت!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امن، محبت، مہمان نوازی اور رواداری کی سرزمین کے طور پر مشہور باب الاسلام سندھ میں روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتیاں، لوٹ مار، اغواء، قتل، اور معصوم بچوں و بچیوں کے اغواء کی خبریں سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اگرچہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور امن و امان کی بحال حکومت وقت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے، لیکن سندھ میں جاری بدترین بدامنی اور ڈاکو راج سے صاف ظاہر ہے کہ گزشتہ 17 سال سے اقتدار میں موجود پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے یا پھر مجرموں کی سہولت کار بنی ہوئی ہے؟ سندھ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے 200 ارب روپے کا بجٹ رکھا تھا، لیکن اس کے باوجود سندھ کے عوام امن کو ترس رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی اتنے طویل عرصے سے اقتدار میں ہونے کے باوجود عوام کو سڑکیں، تعلیم، صحت، اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، اور جان و مال کا تحفظ دینا تو دور کی بات، عوام کو جینے کے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں بدامنی، ڈاکو راج، اور لوگوں کے اغواء کے خلاف مختلف سیاسی، سماجی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بار بار احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کیے گئے، لیکن حکومت نے آنکھیں بند رکھی۔ اسی وجہ سے کشمور- کندھ کوٹ کے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل شہری اتحاد اور سول سوسائٹی کے افراد مجبور ہوکر امن و امان کی بحالی کے لیے اسلام آباد میں ایک ہفتے تک دھرنا دینے پر مجبور ہوئے۔ احتجاج میں شریک رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ’’یہاں نہ ان کی جان محفوظ ہے، نہ مال، نہ کاروبار، وہ سکون کی سانس لینے کے لیے ترس گئے ہیں‘‘۔ بہت سے کاروباری افراد، خاص طور پر ہندو خاندان، اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں اور کئی افراد کراچی جیسے بڑے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ تعلیم، کاروبار، اور زراعت مکمل تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ بدامنی کے خلاف احتجاج کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ عوام کی داد رسی تو دور کی بات، بلکہ احتجاج کرنے والوں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، جو سراسر ظلم ہے۔
اسلام آباد دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کے لیے پہنچنے والے جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ کی یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ ’’مٹھی بھر ڈاکو آخر حکومت سندھ اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ طاقتور کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘ اس درد ناک صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ کے کئی اضلاع خاص طور پر کشمور، کندھ کوٹ، لاڑکانہ، گھوٹکی، شکارپور، جیکب آباد، دادو سمیت کئی علاقوں میں حکومت کی عملداری تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ڈاکو گوٹھوں اور جنگلات کے ’حکمران‘ بن چکے ہیں، جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں، مغویوں کی زنجیروں سے جکڑی ہوئی ویڈیوز اور دھمکی آمیز پیغامات سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ پولیس کے پاس نہ جدید ہتھیار ہیں، نہ تربیت، نہ ہی حکومتی پشت پناہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کی طاقت، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ ڈاکو طاقتور ہیں؟ پولیس کی بندوقوں پر زنگ لگ چکا ہے؟ کئی تھانوں کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں تو دور کی بات، پٹرول تک موجود نہیں ہوتا۔ پولیس اہلکار ڈیوٹی سے واپسی پر مارے جا رہے ہیں، پھر عام شہری کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ ڈاکو راج اب سندھ میں ایک منظم نظام اور اغوا برائے تاوان ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو سرکاری تحفظ کے بجائے خاموش رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس ساری صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست صرف کاغذوں میں قائم ہے، میدان میں تو ڈاکوؤں کی حکمرانی ہے۔ کراچی اور خیرپور کی جیلوں کا ٹوٹنا، لاڑکانہ میں دن دہاڑے مسلح افراد کے ہاتھوں ایس ایچ او کا قتل، سندھ حکومت کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جو ڈاکو کچے کے علاقوں پر قابض ہیں، ان کے بااثر سرپرست اور سہولت کار پکے علاقوں میں بیٹھے ہیں۔
19 جون کو جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر اور معروف عالم دین حافظ نصراللہ چنا کو کندھ کوٹ شہر سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رمضان لاڑو پر تحصیل مقام تنگوانی تنظیمی اجتماع میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر یرغمال بنایا، اور اسلحے کے زور پر ان کی گاڑی، موبائل فون اور نقد رقم چھین کر فرار ہو گئے۔ جب ایک معزز عالم دین اور سیاسی رہنما بھی رہزنی کی وارداتوں سے محفوظ نہیں تو عام شہری کی کیا حالت ہو گی؟ سندھ سے امن کا پرندہ کیوں اْڑ گیا ہے؟ اور یہاں کے عوام کے لیے امن ایک خواب کیوں بن کر رہ گیا ہے؟ کیا یہ خواب کبھی حقیقت بنے گا یا سندھ کے عوام اسی طرح مصیبتیں جھیلتے رہیں گے؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک ظالم سرداروں، جاگیرداروں، ڈاکوؤں اور پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے درمیان موجود گٹھ جوڑ ختم نہیں کیا جاتا، اور مجرموں کے خلاف سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر آپریشن نہیں کیا جاتا، تب تک سندھ میں امن و امان بحال نہیں ہو سکتا، اور سندھ کے لوگ سکون کا سانس نہیں لے سکتے۔ اس سال سندھ حکومت نے امن و امان کے لیے 234 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، اور ایمرجنسی خصوصی آپریشن کے لیے علیحدہ ’منی بجٹ‘ بھی خرچ کیا جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب سندھ کے عوام کو امن نصیب ہو گا یا یہ خواب ہی رہے گا؟ اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکو راج سندھ کے کے عوام رہے ہیں کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان

فائل فوٹو

سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔

خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 

سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔

اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔

تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان