چارجز میں اضافہ،اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے پر35 روپے فی ٹرانزیکشن کٹوتی ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز) ملک بھر کے کمرشل بینکوں نے دیگر بینکوں کے اے ٹی ایمز سے رقم نکالنے والے صارفین پر فی ٹرانزیکشن فیس میں نمایاں اضافہ کر دیا گی
ا جس سے شہریوں کو مزید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلے یہ فیس 23.44 روپے تھی جسے اب بڑھا کر 35 روپے فی ٹرانزیکشن کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام کمرشل بینکوں نے اپنی ”شیڈول آف چارجز“ کو اپ ڈیٹ کر کے یہ نئی فیس لاگو کر دی ہے، اور صارفین سے پہلے ہی اس نرخ پر رقم وصول کی جا رہی ہے۔ بینکوں کے مطابق یہ چارجز زیادہ تر 1-لنک نیٹ ورک کے شیئر پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ تھوڑی رقم اس بینک کو جاتی ہے جس کے اے ٹی ایم سے ٹرانزیکشن کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافی بوجھ خاص طور پر ان صارفین کیلئے مشکل پیدا کرے گا جن کے علاقوں میں اُن کے اپنے بینک کے اے ٹی ایم دستیاب نہیں ہوتے اور وہ مجبوراً دیگر بینکوں کے اے ٹی ایم استعمال کرتے ہیں۔
بینکنگ صارفین نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام پر بلاجواز مالی دباؤ قرار دیا ہے، اور اس فیس میں نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کے نام ایک اور خط، سینیارٹی پر سوالات اٹھادیئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے اے ٹی ایم
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔