وفاق کی بجلی بلوں میں اربوں کی کٹوتی، پنجاب و خیبرپختونخوا کا شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
سٹی42: وفاق کی جانب سے صوبوں کے بجلی بلوں میں براہ راست اربوں روپے کی کٹوتیوں پر پنجاب اور خیبرپختونخوا نے شدید احتجاج کیا ہے .
سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب کے حصے سے 7 ارب 76 کروڑ روپے اور خیبرپختونخوا کے حصے سے 3 ارب 42 کروڑ روپے کاٹے گئے ہیں۔دونوں صوبوں نے ان بغیر مفاہمت کی گئی کٹوتیوں کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ 19 جون کا جاری کردہ کٹوتی آرڈر فوری واپس لیا جائے۔
جشن آزادی:پنجاب کے 41 اضلاع میں بیک وقت آتشبازی
صوبوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر این ایف سی حصے سے کوئی کٹوتی نہ کی جائے۔
محکمہ توانائی پنجاب نے وفاق سے بجلی واجبات اور بقایا جات کا مکمل حساب مانگنے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نیا بین الحکومتی ادائیگی فریم ورک قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی کٹوتیاں نہ صرف سی سی آئی کے 2014 کے فیصلے بلکہ طے شدہ ایس او پیز کے بھی منافی ہیں۔دوسری جانب پنجاب کے محکمہ توانائی کا دعویٰ ہے کہ 32 ارب روپے کی بجلی ڈیوٹی کی مد میں بقایا جات تاحال صوبے کو منتقل نہیں کیے گئے۔
پنجاب میں جشنِ آزادی پر 41 اضلاع میں بیک وقت آتشبازی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔