موبائل فون سم، کاروں، دودھ، دہی، پھلوں سمیت ساڑھے 6 ہزار سے زائد اشیا پر ڈیوٹی ٹیکس میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
فنانس ایکٹ 2025کے نفاذ کے ساتھ ہی درآمدی دودھ، دہی، پنیر، پھلوں سمیت7 ہزار آئٹمز پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن کردیا۔
فنانس ایکٹ 2025 کے نفاذ کے ساتھ ہی ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کا اطلاق یکم جولائی سے کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فیڈرل درآمدی میک اپ کے سامان، دودھ، دہی، مکھن، پنیر، پھلوں، وارنش، پینٹ انیمل اور لیکر چیزوں سمیت 6 ہزار نو سو اسی سے زائد اشیا پر ڈیوٹی و ٹیکس میں کمی کردی ہے جب کہ موبائل فون سم کاڈز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 15فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کردی گئی ہے۔
اسی طرح نئی کاروں اورمنی وینز پرڈیوٹی ایک تہائی سے 10فیصد تک کم کردی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق درآمد شدہ ایس یو ویز پر 44 فیصد کمی سے ڈیوٹی 50 فیصد ہوگئی، مرغی، مچھلیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 5 فیصدکردی گئی۔
پرندوں کیانڈوں پر ڈیوٹی 15فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردی گئی، کتے اور بلی کیکھانے پر 5 فیصد کمی سے ڈیوٹی کی شرح 40 فیصد کردی گئی ہے جبکہ ریٹیل پیک میں انسٹنٹ کافی پر ڈیوٹی میں 5 فیصد کمی کردی گئی ہے۔
علاوہ تمباکو پر ڈیوٹی 40 فیصد تک کم کردی گئی، کھجور، ناریل، برازیلی گری دار میوے اور کاجو پر ڈیوٹی 16 فیصد تک کم کی گئی۔
اس کے علاوہ انجیر، انناس، ایوکاڈو، امرود اور آم پر ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے جب کہ پپیتا اورسیب پر ڈیوٹی 45 فیصد سے کم کرکے 36 فیصد کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گری دار میوے پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 4 فیصد کمی کی گئی ہے، فروزن مچھلی پرڈیوٹی نصف کرکے 17.
اسی طرح میک اپ کا امپورٹڈ سامان سستا ہونے کا امکان ہے، نوٹیفکیشن میں میک اپ کے امپورٹڈ سامان پر ڈیوٹی 55 سے کم کرکے 44 فیصد کردی گئی ہے۔
بیوٹی پارلر کے خام مال ، امپورٹڈ سن بلاک اور سن اسکرین پر ڈیوٹی 55 سے کم کرکے 44 فیصد کردی گئی۔
بالوں کی دیکھ بھال کے خام مال پر ڈیوٹی 55 سے کم کرکے 44 فیصد ، شیونگ کریم، آفٹر شیو لوشن اور کریم پر ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کردی ہے۔
فیس واش، صابن اور دیگر خام ، کریم اور لوشن پر مال ڈیوٹی 50 سے کم کرکے 40 فیصد کردی گئی۔
حکومت نے 7 ہزار آئٹمز پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کردی جن میں پولٹری انڈسٹری کے لیے بریڈنگ مرغ، فروزن مچھلی، زندہ مچھلی، کواڈ فش، دودھ، ملک پاوٴڈر، دہی، پان، صابن سمیت کئی اہم اشیا شامل ہیں۔
اسی طرح صنعتی شعبے کے خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کی گئی ہے، لائیو اسٹاک میں بریڈنگ جانور، بریڈنگ مرغی اور زندہ مچھلی کی دراآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرکے پانچ فیصد کردی جب کہ امپورٹڈ دودھ ، پاوٴڈر ملک اور دہی پر ڈیوٹی 20 فیصد ہوگی۔
امپورٹڈ فروزن مچھلی پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرکے 17.5 فیصد اور امپورٹڈ کواڈ فش، امپورٹڈ مچھلی کا سر، دم اور کھال پرریگولیٹری ڈیوٹی کم کرکے 5 فیصد کردی گئی ہے۔
امپورٹڈ ملک کریم، مکھن اور ملک فیٹس پر ڈیوٹی کم کرکے 20 فیصد، امپورٹڈ پنیر پر ڈیوٹی کم کرکے 40 فیصد اور امپورٹڈ شہد پر ڈیوٹی کم کرکے 24 فیصد کردی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ڈبے میں بند امپورٹڈ ابالی ہوئی سبزیوں ، امپورٹڈ فروزن سبزیوں ، امپورٹڈ خشک سبزیوں پر پر ڈیوٹی کم کرکے 5 فیصد کردی ہے۔
نوٹیفکیشن کے طابق امپورٹڈ خشک کیلے پر ڈیوٹی کم کرکے 10 فیصد، امپورٹڈ کھجور پر ڈیوٹی کم کرکے 20 فیصد، امپورٹڈ تازہ سیب پر ڈیوٹی کم کرکے 24 فیصد اور امپورٹڈ تازہ آڑو پر ڈیوٹی کم کرکے 36 فیصد کردی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہنا تھا کہ امپورٹڈ گندم کے آٹے اور میدے پر ڈیوٹی کم کرکے 20 فیصد، امپورٹڈ مکئی پر ڈیوٹی کم کرکے 20 فیصد اور پان کی درآمد پر ڈیوٹی 400 روپے کلو کردی ہے۔
امپورٹڈ کوکو پاوٴڈر، کوکو پیسٹ اور کوکو بٹر ، امپورٹڈ پاستہ اور کارن فلیکس ، پر ڈیوٹی کم کرکے 20 فیصد جبکہ امپورٹڈ انناس پر ڈیوٹی کم کرکے 40 فیصد کردی گئی۔
بلک میں امپورٹ ہونے والی کافی پر ڈیوٹی کم کرکے 15 فیصد، امپورٹڈ موٹر اسپرٹ پر ڈیوٹی کم کرکے 10 فیصد اور امپورٹڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میگنشیئم اور نیکل پر ڈیوٹی کم کرکے 2.5 فیصد کردی ہے۔
امپورٹڈ وارنش ، پینٹ انیمل اور لیکر پر بھی ڈیوٹی کم کرکے پانچ فیصد کردی گئی ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پر ڈیوٹی کم کرکے 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کم پر ریگولیٹری ڈیوٹی فیصد کردی گئی ہے فیصد سے کم کرکے کم کرکے 40 فیصد ڈیوٹی میں کے مطابق فیصد کمی فیصد کم کردی ہے ڈیوٹی 5 کی گئی
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز