ن لیگ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کو چیلنج کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (اے پی پی) ن لیگ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا اعلامیہ کالعدم قرار دینے اور ارکان کو حلف اٹھانے سے روکنے کی استدعا کی ہے۔ ن لیگ نے بیرسٹر ثاقب رضا کے توسط سے دائر درخواست میں مقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی غیر منصفانہ تقسیم کی ہے جس سے پارٹی کے آئینی و قانونی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 7 جنرل نشستوں کے بدلے 10مخصوص نشستیں دی گئی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بھی اسمبلی میں 7 ارکان ہیں انہیں صرف 8 مخصوص نشستیں دی گئی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں 6 نشستیں جیتی تھیں، ایک آزاد امیدوار تین دن کے اندر پارٹی میں شامل ہو گیا جس سے پارٹی کی مجموعی نشستیں 7 ہو گئیں، تاہم الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کا تعین صرف 6 نشستوں کی بنیاد پر کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں نشستوں کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔