WE News:
2026-07-24@11:49:30 GMT

70 برس پرانے سیلاب کا تذکرہ

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

لاہور میں برکھا رت کے دنوں میں اس شہر میں 70 برس پہلے کی ان بارشوں کا خیال آرہا ہے جن کے بارے میں بہت سے قصے میں نے پڑھ رکھے ہیں۔ ان سے شہر اور اس کے مکینوں کی زندگی کے مختلف رنگ سامنے آتے ہیں۔ اس بارش کے راوی ناموران ادب ہیں، یہ سلسلہ ناصر کاظمی سے خالدہ حسین تک پھیلا ہے۔

سب سے پہلے ناصر کاظمی کی ڈائری سے رجوع کرتے ہیں جس میں 6 اکتوبر 1955 کے دن کا احوال یوں قلمبند ہوا ہے:

’لاہور میں غیر معمولی بارش۔ دفتر سے آکر گھر سے نکلا ہی تھا کہ سیلاب پرانی انارکلی کے تھانے تک آپہنچا، گھر گیا تو پانی دروازے تک آچکا تھا، ایسا سیلاب لاہور میں کبھی نہ دیکھا تھا، رات کو کھانا کھا کر لیٹا ہی تھا کہ انتظار حسین اور سعید محمود پانی میں بھیگتے ہوئے گھر آئے اور مجھے تانگے میں بٹھا کر باہر لے گئے۔

’دشت سے چل کے تا نگر پہنچا

اب کے سیلاب اپنے گھر پہنچا‘

یہ اس شاعر کا بیان ہے جو بپھرے ہوئے پانی کی لپیٹ میں تھا اب ذرا لاہور سے دور ایک شاعر سید ضمیر جعفری کی پریشانی کا عالم ملاحظہ کیجیے جنہوں نے اپنی ڈائری میں 6 اکتوبر 1955 کے اندراج میں یہ الفاظ رقم کیے:

’راوی میں خوفناک سیلاب آگیا، وسطی پنجاب کے کئی اضلاع زیر آب ہو گئے، لاہور شہر کے ایک چوتھائی حصے میں پانچ پانچ فٹ گہرا پانی گھس چکا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں اتنا ہولناک سیلاب کبھی نہیں آیا، بڑی پریشان کن خبریں چلی آرہی ہیں۔ ملک بہت بڑی ابتلا سے دوچار ہو گیا ہے۔ اللہ رحم کرے۔‘

ناصر کاظمی کے مجموعے ’دیوان‘ کی ایک غزل کا مقطع اس سیلاب کے بارے میں ہے اور اس کے نیچے 1955 کا سن بھی درج ہے:

اب کے تو اس دیس میں یوں آیا سیلاب

کب کی کھڑی حویلیاں پل میں ہو گئیں ڈھیر

دو تخلیق کاروں کی نگارشات سے گزر کر اب تاریخ کے استاد اور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر محمد شجاع الدین (1918-1965) کی کتاب ’تاریخ لاہور‘ سے رجوع کرتے ہیں جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے، مقالات کے اس مجموعے کو معروف محقق افضل حق قرشی نے مرتب کیا تھا۔

اس تصنیف میں 1955 میں دریائے راوی کے بے قابو ہونے اور اس کی تلاطم خیز موجوں کے مال روڈ پر پہنچنے کا احوال ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں کے دور میں کوئی ہولناک سیلاب راوی میں نہ آیا لیکن آزادی کے بعد راوی نے بھی گویا آزادی کا اعلان کیا اور اس کا پانی ستمبر 1947 میں کناروں سے چھلک کر یکی دروازے کے باہر سرکلر روڈ تک آن پہنچا تھا۔ ستمبر 1950 میں سیلاب نے پھر تباہی پھیر دی جس کے بعد بقول پروفیسر محمد شجاع الدین ’دریا کے کنارے کنارے داروغہ والا سے ڈھولن والا تک بند تعمیر کیا گیا۔ اس بند کی تعمیر نے دریا کی نواحی بستیوں کے ان لوگوں کو جو سیلاب کے ڈر سے پریشان ہو کر مکانات کی فروخت کا انتظام کر رہے تھے مطمئن کردیا۔‘

اس کے بعد چند سال برسات میں دریا کی سرکش موجیں اپنی حد میں رہیں یہاں تک کہ 1955 کی برسات بھی خیریت سے گزر گئی لیکن اکتوبر میں دریائے راوی اس طرح جھوم کے اٹھا کہ جل تھل ایک ہو گیا اور صورت حال ڈاکٹر خورشید رضوی کے اس مصرعے کے مصداق ہوگئی:

’ابر گلیوں میں گرجتا ہوا پانی لایا‘

پروفیسر محمد شجاع الدین نے لکھا: ’اس دفعہ 1950 کے مقابلے میں دگنا پانی تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بند ناکارہ ثابت ہوا اور سیلاب کا پانی مال روڈ پر بڑے ڈاک خانے تک آگیا۔‘

’تاریخ لاہور‘ میں داروغہ والا کے تذکرے سے اس بستی میں 73 سال سے مقیم محمد سلیم الرحمان کی نظم کا خیال آتا ہے۔ ذرا دیکھیے تو سہی شاعر سیلاب کو ظاہر کی آنکھ سے دیکھ کر کس تخلیقی آب وتاب سے اس کی ہولناکی بیان کرتا ہے:

ہرے، غرقاب کھیتوں پر بچھی ہے صاف ویرانی

شفق کی ماتمی سرخی، درختوں کی سیہ پوشی

ابھرتی موج کے آہنگ میں پنہاں ہیں انجانی

امنگوں کی کسیلی کروٹیں، یادوں کی سرگوشی

دبے پاؤں یہاں پانی کا چڑھنا اور غرانا

افق پر کوندتی بجلی کی گنگ اور اجنبی ہیبت

ہر اک شے خوف کی زنجیر میں جکڑی ہوئی عبرت

ہرا ہوتا ہوا اک زخم ہے دریا کا در آنا

یہ آب تند جس نے آتشیں اور سنگ خارا کی

چٹانیں چیر کر قائم کیا ہے بحر سے رشتہ

جدھر کا رخ کرے، اس کا وہی سیدھا صحیح رستہ

ہر اک عنصر سے پیدا ہے یہاں بے غور سفاکی

یہی بے دید از خود رفتگی رستہ دکھاتی ہے

پتا چلنے نہیں دیتی، بناتی یا مٹاتی ہے

1955 کے سیلاب بلا سے سنت نگر اور کرشن نگر کے متاثر ہونے کا حوالہ کئی لکھاریوں نے دیا ہے۔

حسن عابدی شاعر کی حیثیت سے بعد میں معروف ہوئے پہلے انہیں ترقی پسند تحریک کے مخلص کارکن اور لائق صحافی کے طور جانا گیا۔ ان کا لاجواب شعر ملاحظہ کر لیجیے تو بات آگے بڑھاتے ہیں:

کچھ عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے

ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے

1955 میں سیلاب کے دنوں میں وہ آفاق اخبار میں کام کرتے تھے جہاں رات کی شفٹ کے انچارج مقبول احمد تھے۔ ریڈیو سے خبریں لینے کے ماہر۔ حسن عابدی کے بقول ’ان کا محبوب مشغلہ دنیا بھر سے ریڈیو کی خبریں سننا اور نوٹ کرنا تھا۔‘

وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ سنت نگر میں رہتے تھے، ان کی دفتر سے غیر حاضری سے حسن عابدی مشوش ہوئے اور پانی اترنے کے بعد اپنے ساتھی ضیاالاسلام انصاری کے ہمراہ ان کی خیر خبر لینے ان کے ہاں گئے تو یہ جانا کہ پانی کی یلغار کے بعد بھی بزرگ صحافی ریڈیو دوستی سے دستبردار نہ ہوئے تھے اورگھر کی دوسری منزل پر ٹھکانہ کرکے ریڈیو سے خبریں کاغذ پر اتارتے رہے۔ انہوں نے کاغذوں کا ایک پلندہ صحافی دوستوں کے سامنے دھر کر اپنی کارگزاری کے بارے میں بتایا۔

سیلاب اور سنت نگر کے تعلق سے ایک کہانی حمید اختر نے بیان کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سبط حسن دوسروں کو مصیبت میں دیکھ کر اپنی جان جوکھم میں ڈال سکتے تھے۔ ان دنوں وہ نقی بلڈنگ میں رہتے تھے اور حمید اختر کی رہائش سنت نگر میں تھی۔ وہ امروز اخبار کے دفتر میں ڈیوٹی پر تھے جب انہیں سنت نگر اور کرشن نگر کے زیرِ آب آنے کی اطلاع ملی۔ ان کو گھر میں موجود اپنی بہن اور بھتیجی کے بارے میں فکر لاحق ہوئی، پانی پنجاب یونیورسٹی تک آگیا تھا، دیو سماج روڈ پر جہاں سے گزر کر وہ گھر جاتے تھے وہاں چھ سات فٹ اونچا پانی تھا۔ اسی علاقے میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا گھر بھی پانی میں گھرا تھا اور وہ اوپر کی منزل میں قید ہو کر رہ گئے تھے۔

حمید اختر اور سبط حسن رات گئے پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھے رہے، وقفے وقفے سے زمزمہ توپ کے پاس سیلابی پانی کا جائزہ لینے جاتے اور اتار کے آثار نہ دیکھ کر مایوس پلٹ آتے۔ حمید اختر نے رات سبط حسن کے فلیٹ میں گزاری، پریشانی میں دونوں سو نہ سکے۔ صبح ہونے پر پانی اترنے کے بجائے اور چڑھ گیا تو حمید اختر کی پریشانی بڑھ گئی۔ اس صورت حال میں سبط حسن نے انقلابی قدم اٹھایا اور تیر کر مصیبت زدوں کے پاس جانے کی ٹھانی۔ اس انسان دوست مہم جوئی کو حمید اختر نے ’آشنائیاں کیا کیا‘ میں کچھ یوں بیان کیا ہے:

’میں نے انہیں بہت روکا، اس لیے نہیں کہ اس میں کوئی خطرہ تھا وہ بہت اچھے تیراک تھے، مگر ان کی نفاست طبع کی وجہ سے مجھے معلوم تھا کہ اس گندے اور غلیظ پانی میں سے گزر کر جانا ان کے لیے کس قدر مشکل ہوگا، دریا کے پانی کے ساتھ علاقے کی ساری غلاظت، حشرات الارض، سانپ بچھو وغیرہ بھی بکثرت موجود تھے، مگر سبط حسن اس پانی میں سے گزر کر نہ صرف میرے گھر گئے بلکہ وہاں کچھ دیر رکنے کے بعد اس سے آگے کرشن نگر میں عائشہ جمال (ہاجرہ مسرور کی بڑی بہن) کے ہاں بھی گئے اور دو گھنٹے بعد واپس آکر ہم لوگوں کو گھر والوں کی خیریت سے آگاہ کیا۔ اس شام میں گورنمنٹ کالج سے ہوتا ہوا گھوڑا اسپتال جاکر وہاں سے کشتی میں سوار ہو کر گھر پہنچا تھا۔‘

خالدہ حسین کے ناول ’کاغذی گھاٹ‘ میں لاہور کی برسات کا بڑا مؤثر بیان ہے جس کے بعد اس میں سیلاب داخل ہوتا ہے۔ آسمان پر گھر کر آنے والے بادل گرجنے کے بعد برستے ہیں تو ’اس مینہ میں بوندیں نہیں بس پانی کی چادر سی بہہ نکلتی ہے۔‘

خالدہ حسین کے ناول میں سیلاب، اس کے بارے میں لوگوں کا رویہ اور پھر اس کے گزر جانے پر زندگی کا پرانے ڈھب پر آجانا، ان سب پہلوؤں کو سمیٹا گیا ہے۔

’پانی راوی کے آس پاس کی بستیوں سے ہوتا کرشن نگر تک تو بڑے آرام سے پہنچ جاتا اور پہنچتا بھی کیسے۔ پورے پورے مکان، بعض اوقات دو منزلہ ڈوب جاتے، لوگ چھتوں پر پناہ لیتے اور سڑکوں پر کشتیاں چلنے لگتیں۔ اور لوگوں کو اس طوفان نوح سے نکالنے کی سبیل کی جاتی مگر اس عالم میں بھی لڑکے ’تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھارا‘ گاتے کشتیاں چلاتے۔ افروز کا گھر عین سیلابی علاقے میں تھا۔ وہ سیلاب میں گھر کی چھت پر بیٹھی طویل خطوط میں سیلاب نامہ لکھتی رہی جو پانی اترنے کے بعد ڈاک میں اسے ملے۔ سو راوی کا پانی ہر سال ان لوگوں کے سامان تباہ کر کے چلا جاتا۔ یہ پھر سے اپنے بھیگے سامان دھوپوں میں خشک کرتے، تمام گھر درست کرکے اپنے شب و روز میں مگن ہو جاتے۔‘

سیلاب کے بارے میں مذکورہ بالا حوالوں میں آپ نے یہ نوٹ کیا ہوگا کہ لوگ اپنے معمولات زندگی برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ناصر کاظمی کے لیے گھر سے پیدل نکلنے کا راستہ مسدود ہے تو ان کے دوست تانگے کا انتظام کرتے ہیں اور یہ دونوں دوست دو دن پہلے ناصر کاظمی کے مسکن سے رات ڈیڑھ بجے بارش میں بھیگتے سائیکلوں پر اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تھے۔

اس طرح مقبول احمد پانی کے قیدی ہیں لیکن ریڈیو سن رہے ہیں اور خبریں بناتے چلے جا رہے ہیں۔

’کاغذی گھاٹ‘ میں نوجوان گیت گاتے کشتیاں چلاتے ہیں اور افروز خطوط نویسی میں منہمک نظر آتی ہے۔

محمد سلیم الرحمان کا کڑا درد آگے چل کر نظم کی صورت میں ڈھلتا ہے۔

اس آشوب میں دوسرا خوبصورت پہلو انسانی رابطے پر یقین اور دوسروں کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑنا تھا۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں وہ صحافی جنہیں اپنے صحافی بھائی کی خیریت نیک مطلوب ہے وہ اس کے گھر کا رخ کرتے ہیں اور ادھر سبط حسن سیلابی پانی میں تیرنے کا کشٹ اٹھا کر درماندہ حال لوگوں کے پاس پہنچتے ہیں۔ ناصر کاظمی کے دوستوں کو ان کے بغیر سبھا جمانا منظور نہیں۔ ضمیر جعفری طوفان کے مرکز سے دور ہیں لیکن ان کا دل مصیبت کے ماروں کے ساتھ دھڑک رہا ہے۔ کسی کے دکھ درد میں شرکت کا ارفع وصف ہی ایسے المیوں کو روک سکتا ہے جن کے آج ہر سو چرچے میں بے حسی اپنے عروج پر ہے اور لگتا ہے ہم سب پریم چند کے افسانے ’کفن‘ کے گھیسو اور مادھو بن چکے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمود الحسن

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

wenews سیلاب لاہور محمودالحسن ناصر کاظمی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیلاب لاہور محمودالحسن ناصر کاظمی وی نیوز ناصر کاظمی کے کے بارے میں میں سیلاب کرتے ہیں پانی میں سیلاب کے کے ساتھ ہیں اور میں بھی کے بعد اور اس

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب