یاسمین راشد ‘ محمودالرشید اعجاز چودھری عمر چیمہ ‘ عالیہ حمزہ ، صنم جاوید اور دیگر: 9مئیمقدمات : مزید افراد کو سزا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور+ اسلام آباد (خبر نگار+ نوائے وقت رپورٹ) تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو شادمان تھانہ جلاؤ گھیراؤ اور پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمات سے بری کر دیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے دونوں کیسز کا فیصلہ سنا دیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ خاتون رہنماؤں عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو 5، 5 سال قید کی سزا سنائی گئی اور ایک ایک لاکھ جرمانہ کیا گیا ہے۔ تھانہ شادمان جلانے کے مقدمہ میں 12 ملزموں کو بری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بری ہونے والوں میں سلمان احمد، عبدالقادر، فیضان، طیب سلطان، شاہد بیگ، ماجد علی، بخت رواں، سہیل خان، اویس، رفیع الدین، فرید خان شامل ہیں۔ اے ٹی سی لاہور کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں فیصلہ سنایا۔ تھانہ شادمان نذر آتش کیس میں 19 ملزموں کا ٹرائل مکمل کیا گیا۔ ملزموں میں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید، صنم جاوید اور عالیہ حمزہ شامل ہیں۔ تھانہ شادمان نذر آتش کیس میں کل 41 ملزم نامزد ہیں جبکہ 15 ملزم اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں۔ تھانہ شادمان نذر آتش کیس میں 6 ملزم زیر حراست جبکہ ایک ملزم وفات پا چکا ہے۔ ملزموں کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ بیکری کے باہر گاڑیاں جلانے کے مقدمے کا ٹرائل کوٹ لکھپت جیل میں مکمل کیا گیا۔ ملزموں میں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد شامل ہیں۔ بیکری کے باہر گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چودھری، میاں محمودالرشید، عالیہ حمزہ اور صنم جاوید بھی شامل ہیں۔ گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں کل 25 ملزم نامزد ہیں جبکہ 7 ملزم اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں، 12 ملزموں کا ٹرائل مکمل کیا گیا۔ 5 ملزم زیر حراست جبکہ ایک ملزم وفات پا چکا ہے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے گارڈ حافظ ارشد کو 10 سال قید کی سزا سنائی۔ بیکری کے باہر پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں 10 ملزمان کو بری کیا گیا۔ عدالت نے عائشہ بھٹہ کو 10 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔ ادھر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 5 اگست احتجاج پر پی ٹی آئی کارکنوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کے 9 مئی مقدمات کے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ پی ٹی آئی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سینئر قیادت اور کارکنوں کو سنائی گئی سزائیں انصاف اور عدل کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں۔ یہ فیصلے قانونی اصولوں اور منصفانہ ٹرائل کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی انتقام کی بنیاد پر دیے گئے ہیں اور یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ان مقدمات میں شفافیت کو یکسر بالائے طاق رکھا گیا اور ملزموں کو اپنے دفاع کا موقع تک نہیں دیا گیا۔ ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ قانونی تقاضے پورے کئے بغیر دیر رات تک بند کمروں میں ٹرائل چلائے گئے جن کا مقصد اس کارروائی کو عوام اور میڈیا کی نظروں سے بچا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا تھا۔ ملک کی مقبول ترین سیاسی رہنما جو مکمل پرامن اور قانون کی پاسداری کرنے والے پاکستانی ہیں، ان پر دہشتگردی کے الزامات لگا کر سزا دینا آئین اور انصاف دونوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ایک طے شدہ سکرپٹ کے تحت یکے بعد دیگرے سنائے جانے والے ناحق فیصلوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان فیصلوں کا مقصد صرف اور صرف تحریک انصاف کو دیوار سے لگانا اور اس کی قیادت اور کارکنوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ تحریک انصاف ان تمام غیر منصفانہ فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی اور آخری سانس تک انصاف کی لڑائی لڑے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گاڑیاں جلانے کے مقدمے سال قید کی سزا تھانہ شادمان اعجاز چودھری یاسمین راشد تحریک انصاف عالیہ حمزہ صنم جاوید پی ٹی آئی شامل ہیں کیا گیا
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک