اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی چند روز پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہو رہی ہے جس میں وہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں انکشاف کر رہے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف ان کے سسر جنرل ریٹائرڈ اعجاز امجد کی سفارش پر بنوایا گیا تھا ۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیاہے کہ میں جنرل اعجاز امجد کے پاس گیا، جو جنرل باجوہ کے سسر ہیں، مجھے کہا گیا کہ ان سے جا کر کہیں اسے منع کریں اور مزاحمت نہ کرے، اس سارے معاملے میں یہ عمران خان سے زیادہ اہم تھے ، جنرل اعجازنے ہی جنرل باجوہ کو چیف بنوایا تھا، جنرل اعجاز کا  میاں نوازشریف سے 80 کی دہائی سے تعلق ہے ، جب وہ جنرل بیگ کے چیف آف سٹاف تھے ، میں اس وقت کی بات کر رہاہوں ، انہی کی سفارش پر جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنایا گیا، انہوں نے ہی گارنٹی دی تھی کہ اگر تم لوگوں کی لڑائی ہوئی تو میں اس کے ساتھ نہیں بلکہ تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا، انہوں نے کہا کہ میں اپنے داماد کا نہیں بلکہ آپ لوگوں کا ساتھ دوں گا۔ 

فیصل آباد؛بجلی چوری اور بل ادا نہ کرنے پر پورے گاؤں کی بجلی منقطع

اصل ذلیل کردار جنرل باجوہ اور اس کے سسر جنرل اعجاز امجد کا ہے جن کے 1980 سے نواز شریف سے تعلقات ہیں
اس قادیانی نے پورے پاکستان کو تباہ و برباد کروا کر رکھ دیا۔۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو اصل میں پیچھے سے یہ اعجاز امجد چلا رہا تھا۔۔ یہ سارا قادیانی نیٹ ورک تھا اور آج بھی ھے pic.

twitter.com/pT8p8hXqub

— پری زاد (@Parizaad_reborn) August 12, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جنرل باجوہ باجوہ کو کے سسر

پڑھیں:

علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 

پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش