آئس ہاکی مقابلے کے دوران کھلاڑی پر پینلٹی، ماں بیٹے کے دفاع کیلئے میدان میں کود پڑی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
چیک ریپبلک میں ایک دلچسپ اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب ایک آئس ہاکی میچ کے دوران ریفری نے ایک کھلاڑی پر پینلٹی لگا دی اور کھلاڑی کی ماں مشتعل ہوکر میدان میں آگئی۔
رپورٹس کے مطابق پینلٹی پڑنے پر کھلاڑی کی ماں جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور فوراً میدان میں کود کر بیٹے کے دفاع میں ریفری سے بحث کرنے لگی۔
یہ واقعہ ایک مقامی لیگ میچ کے دوران پیش آیا۔ ریفری نے کھلاڑی کے فاؤل پر پینلٹی اسٹروک دیا تھا، جو کھلاڑی کی ٹیم کے حق میں نقصان دہ تھا۔
اس پر کھلاڑی کی ماں، جو اسٹیڈیم میں تماشائی کے طور پر موجود تھی، غصے میں آ گئی اور میدان میں داخل ہو کر ریفری سے بحث کرنے لگی۔
View this post on InstagramA post shared by Hockey Forever (@hockeyforever)
تماشائی اور دیگر کھلاڑی اس منظر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کچھ نے قہقہے لگائے اور کچھ نے موبائل سے ویڈیو بنائی۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور کئی صارفین نے مذاق میں کہا کہ ماں تو ماں ہوتی ہے، چاہے میدان کھیل کا ہی کیوں نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کھلاڑی کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔