آئندہ تین سے چار ہفتے میں مزید کلاؤڈ برسٹ ہو سکتے ہیں، چیئرمین این ڈی ایم اے
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا ہے کہ ہمیں مزید کلاؤڈ برسٹ دیکھنے پڑ سکتے ہيں، شمالی پنجاب، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان میں آئندہ تین سے چار ہفتے میں مزید کلاؤڈ برسٹ ہوسکتے ہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ایسا سلسلہ یا کلاؤڈ برسٹ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں دوبارہ بھی ہوسکتا ہے، اس سال مون سون کی شدت اور پھیلاؤ کا ایریا زیادہ ہے، گلگت بلتستان میں جو دو ہفتے پہلے ہوا، اسی کا فالو اپ اب کے پی کے میں نظر آیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بادل پھٹنے کے بعد سیلابی ریلے تباہی کی داستانیں چھوڑ گئےبونیر میں مکینوں کے آشیانے اجڑ گئے، ہر طرف ملبے اور سیلابی ریلے میں بہہ کر آنے والے بڑے بڑے پتھروں کے ڈھیر لگ گئے ۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ہمارے پاس دنیا میں استعمال ہونے والے موسم پروجیکٹرز کی نسبت بہت اچھا سسٹم ہے، خیبر پختونخوا میں جو تباہی ہوئی ہے وہ موسم کا سسٹم مغرب کی طرف سے آیا تھا، تباہی کی بڑی وجہ لوگوں کا نشیبی علاقوں میں رہنا بھی تھا۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا کو قومی ریلیف اسٹاک کے تین ٹرک فراہم کر دیے۔
وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے ذریعے باجوڑ کو 800 کلو سے زیادہ ادویات فراہم کی گئیں، بونیر کو 1 لاکھ 9 ہزار 515 امدادی اشیاء فراہم کی گئیں۔
آئی این جی او نے 10ہزار نان فوڈ آئٹمز اور 15ہزار فوڈ پیکٹس فراہم کیے، این جی او نے 2 ہزار ترپالیں اور 330 خیمے، 6 ٹن خشک راشن تقسیم کیا، این جی او نے 6 ٹن خشک دودھ، 3 ایمبولنسز، 3 موبائل ہیلتھ یونٹس فراہم کیے، یہ امدادسوات، بونیر ، شانگلہ اور باجوڑ میں دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے کلاؤڈ برسٹ فراہم کی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔