بارشوں اور سیلاب سے تباہی: عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر اور چیئرمین این ڈی ایم اے کی میڈیا بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اسکرین گریب
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے میڈیا بریفنگ میں مون سون بارشوں، سیلاب اور کلاوڈ برسٹ سے تباہی کی تفصیلات سے آگاہ کردیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کے پی میں سڑکوں کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا، دو انجینیر بٹالیئن کے پی اور دو گلگت میں تعینات ہیں، 3 میڈیکل کی یونٹس گلگت اور خیبر پختونخوا میں تعینات ہیں، میڈیکل کیمپس میں ابھی تک 6 ہزار سے زائد زخمیوں کو علاج معالجہ فراہم کیاجاچکا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایات پر ایڈیشل یونٹس کو متحرک کیا گیا، بونیر، شانگلہ میں میڈیکل یونٹس فعال ہیں، زخمیوں کو علاج فراہم کیا جارہا ہے، آرمی چیف کی ہدایت پر فوج کا ایک دن کا راشن مختص کیا گیا تھا، متعدد پلوں کی تعمیر کی گئی ہے سڑکیں کھولی گئی ہیں۔
احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس وقت بونیر میں دو بٹالین موجود ہیں، میڈیکل بٹالین کے علاوہ سی ایم ایچ راولپنڈی سے بھی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں، متاثرین میں راشن بذریعہ روڈ اور بذریعہ ہیلی کاپٹر بھی پہنچایا جارہا ہے، کے پی میں 90 سڑکیں تباہ ہوئیں، سڑکوں کی بحالی کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ حالیہ مون سون بارشوں میں 670 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ایک ہزار کے قریب زخمی ہوئے، سیلاب میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے، سرچ این ریسکیو ٹیمیں سرچنگ کے عمل میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ مون سون میں زیادہ بارشیں ہوئیں، این جی اوز نے ہمارے ساتھ مل کو کام کیا، انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے وزیراعظم کو باقاعدہ آگاہ کیا، پچھلے چند دنوں میں مشترکہ کاوشوں سے 25 ہزار افراد کو ریکسیو کیا ہے، زخمیوں کا علاج بہتر انداز میں جاری ہے، لاپتا کچھ افراد کی لاشیں ریکور کیں ہیں، گلگت میں کلاڈ برسٹ سے زیادہ تباہی ہوئی، شمالی علاقہ جات اور کے پی میں انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پہلے روز سے صوبوں اور متعلقہ اداروں کو معلومات فراہم کی جارہی ہیں، مجموعی طور پر 25 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔