اسکرین گریب

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے میڈیا بریفنگ میں مون سون بارشوں، سیلاب اور کلاوڈ برسٹ سے تباہی کی تفصیلات سے آگاہ کردیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کے پی میں سڑکوں کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا، دو انجینیر بٹالیئن کے پی اور دو گلگت میں تعینات ہیں، 3 میڈیکل کی یونٹس گلگت اور خیبر پختونخوا میں تعینات ہیں، میڈیکل کیمپس میں ابھی تک 6 ہزار سے زائد زخمیوں کو علاج معالجہ فراہم کیاجاچکا۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایات پر ایڈیشل یونٹس کو متحرک کیا گیا، بونیر، شانگلہ میں میڈیکل یونٹس فعال ہیں، زخمیوں کو علاج فراہم کیا جارہا ہے، آرمی چیف کی ہدایت پر فوج کا ایک دن کا راشن مختص کیا گیا تھا، متعدد پلوں کی تعمیر کی گئی ہے سڑکیں کھولی گئی ہیں۔

احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس وقت بونیر میں دو بٹالین موجود ہیں، میڈیکل بٹالین کے علاوہ سی ایم ایچ راولپنڈی سے بھی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں، متاثرین میں راشن بذریعہ روڈ اور بذریعہ ہیلی کاپٹر بھی پہنچایا جارہا ہے، کے پی میں 90 سڑکیں تباہ ہوئیں، سڑکوں کی بحالی کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ حالیہ مون سون بارشوں میں 670 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ایک ہزار کے قریب زخمی ہوئے، سیلاب میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے، سرچ این ریسکیو ٹیمیں سرچنگ کے عمل میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مون سون میں زیادہ بارشیں ہوئیں، این جی اوز نے ہمارے ساتھ مل کو کام کیا، انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے وزیراعظم کو باقاعدہ آگاہ کیا، پچھلے چند دنوں میں مشترکہ کاوشوں سے 25 ہزار افراد کو ریکسیو کیا ہے، زخمیوں کا علاج بہتر انداز میں جاری ہے، لاپتا کچھ افراد کی لاشیں ریکور کیں ہیں، گلگت میں کلاڈ برسٹ سے زیادہ تباہی ہوئی، شمالی علاقہ جات اور کے پی میں انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

 عطا تارڑ نے کہا کہ پہلے روز سے صوبوں اور متعلقہ اداروں کو معلومات فراہم کی جارہی ہیں، مجموعی طور پر 25 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار

پشاور:

حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔

اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا