یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے سوا 'کوئی چارہ‘ نہیں، روس
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 ستمبر 2025ء) کریملن نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ روس محض ایک ’’کاغذی شیر‘‘ ہے، جیسا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا، اور کہا کہ روس کے پاس یوکرین میں اپنی جنگ جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے بدھ کو کہا، ''ہم اپنی خصوصی فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اپنے مفادات کو یقینی بنائیں اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے طے کردہ اہداف حاصل کریں۔
‘‘ ماسکو یوکرین پر مکمل حملے کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے۔پیسکوف نے ایک ریڈیو انٹرویو میں مزید کہا، ''ہم یہ اپنے ملک کے حال اور مستقبل کے لیے، آنے والی کئی نسلوں کے لیے، کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔
(جاری ہے)
‘‘
پیسکوف نے ٹرمپ کے ''کاغذی شیر‘‘ کے بیان کو بھی مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا، ''روس کسی بھی صورت میں شیر نہیں ہے۔
روس کو روایتی طور پر ایک ریچھ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اور کاغذی ریچھ کا کوئی وجود نہیں۔ روس ایک حقیقی ریچھ ہے ... اس میں کوئی کاغذ نہیں ہے۔‘‘
تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ معیشت مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
پیسکوف نے کہا، ''روس اپنی معاشی استحکام کو برقرار رکھے ہوئے ہے‘‘، اور مزید کہا کہ ''معیشت کے مختلف شعبوں میں دباؤ اور مسائل موجود ہیں۔
‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ٹرمپ نے جنوری میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد قریبی تعلقات شروع کیے تو اس کے نتائج ''تقریباً صفر‘‘ رہے۔
یہ تبصرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے جواب میں کیے گئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یوکرین روس سے اپنا تمام علاقہ واپس حاصل کر سکتا ہے اور روس کو ''کاغذی شیر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کی معیشت ناکام ہو رہی ہے۔
روبیو کی لاوروف سے ملاقاتامریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران نیویارک میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے لاوروف کے ساتھ بات چیت کے دوران ٹرمپ کی جانب سے "قتل و غارت بند کرنے" کی اپیل دہرائی۔
روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ لاوروف نے روبیو کو بتایا کہ یوکرین اور یورپی ممالک ''تنازعہ کو طول دے رہے ہیں۔‘‘
روبیو اور لاوروف نے پہلے 15 اگست کو الاسکا میں ٹرمپ اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان ہونے والے اجلاس میں بھی ملاقات کی تھی۔
ٹرمپ کے یوکرین بیان برلن کے مقاصد سے ہم آہنگ ہیں، جرمنیجرمنی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیان جس میں انہوں نے روس کے زیر قبضہ زمین واپس لینے میں یوکرین کی حمایت کا عندیہ دیا، ماسکو پر مزید دباؤ بڑھانے کی امید کو تقویت دی ہے۔
ایک باقاعدہ حکومتی پریس کانفرنس میں ترجمان اسٹفن کورنیلیوس نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات جرمن حکومت کے سیاسی مقاصد کے مطابق ہیں، ''تاکہ جارح روس پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور روس کو مزید تنہا کیا جا سکے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''یہ بیانات ہمیں امید دیتے ہیں کہ ہم اب اس مسئلے پر زیادہ شدت سے بات کر سکتے ہیں اور روس پر ضروری دباؤ برقرار رکھ سکتے ہیں۔‘‘
ادارت: صلاح الدین زین
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیسکوف نے انہوں نے ٹرمپ کے نہیں ہے اور روس نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔