اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
نیویارک(سب نیوز )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر اقتصادی پابندیاں مستقل طور پر اٹھانے کے خلاف ووٹ دے دیا، جو تہران کے لیے ایک بڑا اقتصادی دھچکا ہے، جسے ایران نے سیاسی جانبداری قرار دیا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں پابندیوں کو روکنے کی قرارداد 4 کے مقابلے میں 9 ووٹ سے ناکام ہو گئی، جس کا مطلب ہے کہ اگر اس سے پہلے کوئی بڑا معاہدہ نہ ہوا تو یورپی پابندیاں 28 ستمبر تک دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔
روس، چین، پاکستان اور الجزائر نے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو روکنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ سلامتی کونسل کے 9 اراکین نے پابندیوں میں نرمی کے خلاف ووٹ دیا، 2 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔واضح رہے کہ اگست کے آخر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا تھا کہ اگر تہران مطالبات پورے نہ کرے تو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی جائیں، جس کے بعد 30 روز کے بعد یہ عمل شروع ہوا۔
ادھر، ایرانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ تین یورپی ممالک پر 2015 کے جوہری ہتھیاروں کے پھیلا کو روکنے کے معاہدے کو غلط استعمال کر رہے ہیں، جو اسنیپ بیک میکانزم کے تحت پابندیاں لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ جو کچھ یورپی کر رہے ہیں وہ سیاسی جانبداری اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، اور وہ کئی حوالے سے غلط ہیں کیونکہ وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی او پی اے) میں شامل میکانزم کو غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یورپی ممالک نے یہ پیشکش کی تھی کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے اور امریکا کے ساتھ بات چیت کرے تو وہ اسنیپ بیک عمل کو چھ ماہ تک مخر کر سکتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعوی کیا کہ تہران نے ایک مناسب اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کیا ہے اور زور دیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے پھیلا کو روکنے کے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اعجاز اسحاق کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اعجاز اسحاق کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، خواجہ آصف وکلا احتجاج کے دوران ہاتھا پائی کا معاملہ،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار سید واجد گیلانی کی مدعیت میں مقدمہ درج افغانوں نے تاریخ میں اپنی سرزمین پر غیرملکی فوج کی موجودگی کو کبھی قبول نہیں کیا: افغان حکام پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کر دی صدر ٹرمپ کی بگرام ایئربیس پر قبضے کی خواہش، امریکا کیا کرنے والا ہے؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ کو روکنے کے خلاف
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔