یوٹیوبر رجب بٹ بڑی مشکل میں پھنس گئے، ایک اور مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر رجب بٹ کے خلاف نیا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی حکام یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف بیٹنگ ایپس کی تشہیر کے معاملے پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
انہی کارروائیوں کے دوران نیشنل کرائم کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن اتھارٹی کی جانب سے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کو گرفتار کیا گیا تھا جو اب تک زیرِ حراست ہیں اور انہیں کئی بار عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے اور ان کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔
اب نیشنل کرائم کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن اتھارٹی (NCCIA) نے بیٹنگ ایپس کی تشہیر پر یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ رجب بٹ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان بیٹنگ ایپس کی تشہیر کی۔ انہیں وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف کیس درج کر دیا گیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔