پاکستان میں حماس کا دفتر ہونا چاہیے، حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں بڑی تحریک شروع کرنے والی ہے، 21 تا 23 نومبر لاہور میں ہونے والا ”اجتماع عام“ اس تحریک کا آغاز ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی حماس کو اپنی سرزمین پر قبضہ کرنے والے اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھا کر جدوجہد کرنے کی اجازت ہے، پاکستان میں حماس کا دفتر ہونا چاہیے، جن لوگوں نے 26ویں آئینی ترمیم کیلئے کردار ادا کیا، وہ قوم کے مجرم ہیں اور ہم نے اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا ہے۔ شہر قائد کے جناح آڈیٹوریم سٹی کورٹ میں اسلامک لائرز موومنٹ کراچی کے زیر اہتمام سیمینار بعنوان ”خطبہ حجۃ الوداع، بنیادی انسانی حقوق کے سرخیل، محمدؐ عربی“ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نبی کریمﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع بنیادی انسانی حقوق کی سب سے بہترین مثال ہے، امریکا دنیا بھر میں انسانی حقوق و جمہوریت کی بات کرتا ہے، لیکن خود ہیرو شیما اور ناگا ساکاکی پر بم باری کی اور آزادانہ ایٹم بم استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ویت نام، افغانستان اور عراق پر چڑھائی کی، 2006ء میں حماس نے جمہوری طریقے سے کامیابی حاصل کی لیکن امریکا اور اسرائیل نے اسے چلنے نہیں دیا، اس طرح جب الجزائر میں اسلامی فرنٹ نے 80 فیصد ووٹ لے لیے، تو ان کی حکومت نہیں بننے دی گئی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے عمل میں جرنلسٹ اور ہیومن رائٹس ورکرز بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، یہ بات سمجھ لی جائے کہ حماس کو مائنس کرکے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکے بغیر حقیقی اور پائیدار امن کبھی قائم نہیں ہو سکتا، اسرائیل بدمست ہاتھی بنا ہوا ہے، اسے روکنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس تو 1978ء میں وجود میں آئی، اسرائیل تو 1938ء اور 1940ء میں بھی فلسطین پر فوج کشی کر چکا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی حماس کو اپنی سرزمین پر قبضہ کرنے والے اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھا کر جدوجہد کرنے کی اجازت ہے، پاکستان میں حماس کا دفتر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آمرانہ حکومتوں، وڈیروں و جاگیرداروں کا تسلط قائم رہا ہے، عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم اور مسائل میں جکڑا گیا ہے۔
مرکزی امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم بنی ہوئی ہے، پورے سندھ اور کراچی میں جو سسٹم کام کر رہا ہے، وہ اسلام آباد سے کنٹرول ہو رہا ہے، اس شہر کا حق مارا جا رہا ہے، جو منی پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں، شہر بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی خستہ حالی، سیوریج کے ناقص نظام سمت بے شمار مسائل کا شکار ہے، صرف کراچی بار اور سٹی کورٹ کے اطراف کا جائزہ لیں، پورے شہر کی ابتر حالت کا اندازہ ہو جائے گا۔ کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ریڈ لائن لے لیں، پوری یونیورسٹی روڈ کھود کر رکھ دی، مگر وہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی، گرین لائین کا بقیہ حصہ بھی مکمل نہیں ہو رہا ہے، سندھ حکومت موٹر سائیکلیں تقسیم کر رہی ہے، لیکن پہلے شہر کی سڑکیں تو ٹھیک کرے۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے بھی فراڈ کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی صرف اپنے ”سسٹم“ کو مضبوط کرنا جانتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے جن لوگوں نے کردار ادا کیا وہ قوم کے مجرم ہیں، ہم نے اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف عدالت میں بھی کیس فائل کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور دھوکے کی بنیاد پر کوئی نظام اور حکومت زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتے، بنگلہ دیش میں 17 سال سے ایک حکومت قائم کی تھی اور لوگوں کے اندر اس حکومت کے خلاف لاوا پک رہا تھا، جب لاوا پھٹ پڑا تو پوری دنیا نے حسینہ واجد کا انجام دیکھا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں بڑی تحریک شروع کرنے والی ہے، 21 تا 23 نومبر لاہور میں ہونے والا ”اجتماع عام“ اس تحریک کا آغاز ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے خلاف رہا ہے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس