جیکب آباد ،صحافی امتیاز میر کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250930-11-16
جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد میں صحافی امتیاز میر کے قاتلوں کی گرفتاری اور صحافیوں پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کے لیے صحافیوں کا احتجاجی جلوس اور دھرنا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس اور ڈسٹرکٹ پریس کلب جیکب آباد کی جانب سے صحافی امتیاز میر کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لیے اور ڈہرکی کے صحافی اعظم سہریانی اور میرپور ماتھیلوکے برکت میرانی پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کے خلاف پریس کلب سے ڈی سی چوک تک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ صحافیوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف کی فراہمی اور قاتلوں کی گرفتاری اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کے خلاف نعرے درج تھے۔ جلوس کے شرکا نے ڈی سی چوک پر دھرنا دے کر شدید نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پریس کلب جیکب آباد کے صدر بابو حیدر مگسی، محمد نواز سولنگی،مصطفی علی خان، عبدالرحمن آفریدی، عبدالغنی کھوسو، انجینئر اعجاز ،و کی وادھوانی اور عبدالنبی مگسی نے کہا کہ صحافی امتیاز میر کا بہیمانہ قتل آزادی صحافت پر حملہ ہے، انہوں نے کہا کہ صحافت کے فرائض انجام دینے والے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے لیکن امتیاز میر کے کیس میں مطلوب ملزمان کئی روز گزرنے کے باوجود گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔مقررین نے کہا کہ اگر قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، صحافیوں نے ڈہرکی کے صحافی اعظم سہریانی اور میرپور ماتھیلو کے صحافی برکت میرانی پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کی مذمت کی اور فلفور مقدمات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر مطالبہ کیا گیا صحافی برادری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور امتیاز میر کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دی جائے بصورت دیگر احتجاج کا درائرہ بڑھایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جھوٹے مقدمات درج کرنے صحافی امتیاز میر جیکب ا باد قاتلوں کی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک