عورت تخلیق ہی نہیں بلکہ تعمیر انسان کی بھی ذمہ دار ہے،رخشندہ منیب
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250930-08-19
حیدرآباد (نامہ نگار) حلقہ خواتین جماعت اسلامی سندھ کی ناظمہ رخشندہ منیب نے موجودہ حالات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ عورت پر تشدد، غیرت کے نام پر قتل اور ہراسمنٹ جیسے واقعات میں اضافہ ناقص عدالتی نظام اور انصاف کی کمی کا نتیجہ ہے۔ عورت نصف انسانیت ہے جوتخلیق ہی نہیں بلکہ تعمیرِ انسان کی بھی ذمہ دار ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت مقامی ہال میں تحفظ عورت کا بنیادی حق کے موضوع پرمنعقدہ مذاکرے سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب نے اپنی کلیدی خطاب میں کہا کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان میں خواتین کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے جو ہر شعبہء زندگی میں عورت کے جائز حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کے مختلف شعبوں کا تعارف بھی پیش کیا۔نائب ناظمہ حلقہ خواتین صوبہ سندھ شگفتہ ابراہیم نے محسن انسانیت کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ؐایسے دور میں تشریف لائے جب عورت کو وراثت سے محروم رکھا جاتا اور لڑکی کی پیدائش باعثِ شرم سمجھی جاتی تھی، لیکن آپ صہ نے عورت کو عزت، وقار او ر حقوق عطا کیے جو آج بھی اس کے تحفظ کی ضامن ہیں۔مذاکرے میں طلعت یاسمین (ایڈووکیٹ ہائیکورٹ و ممبر اسلامک لائرز فورم)، ساجدہ یوسفانی (پروفیسر، سلیمان میڈیکل کالج)، عزرا جمیل (سیکریٹری جماعت اسلامی سندھ)، پروفیسر نائلہ خواجہ (ایجوکیشن اسکالر و سوشل ورکر) اور بشریٰ ضیا (سابق انچارج کیمسٹری ڈپارٹمنٹ شاہ لطیف کالج) نے بھی اظہارِ خیال کیا اور عورت کے قانونی و سماجی تحفظ پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی۔آخر میں ناظمہ ضلع حیدرآباد غزالہ زاہد نے کہا کہ عورت کا تحفظ دراصل خاندان کی مضبوطی اور معاشرتی استحکام کی ضمانت ہے، اور یہی استحکام پاکستان کی بقا اور سلامتی کا راستہ ہے۔انہوں نے آخر میں معزز شرکائے مجلس کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔