مریم نواز دنیا بھر کے دورے کرسکتی ہیں تو خیبرپختونخوا حکومت کو بھی اجازت دی جائے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز دنیا بھر کے دورے کرسکتی ہیں تو خیبرپختونخوا حکومت کو بھی اجازت دی جائے۔
پشاور یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبائی حکومت نے افغانستان میں وفد بھیجنے کے لیے وفاق کو کئی بار خطوط لکھے لیکن کوئی جواب نہیں ملا، وفاقی حکومت اپنے نمائندے بھی وفد میں شامل کرے تاکہ ان کے خدشات دور ہوسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پہلے اپنی کریڈیبلٹی درست کریں اور پاکستان کے حقیقی وزیر اعظم بننے کا ثبوت دیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن تب ہی ممکن ہے جب مودی مذاکرات کے لیے تیار ہوگا اور اُس کے دانت توڑنے سے ہی بات آگے بڑھے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی جس میں امن و امان، کابینہ کی کارکردگی اور دیگر مسائل پر بریفنگ دی گئی۔
بانی نے وزیر اعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مالی و انتظامی اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جلسے میں بدنظمی سے متعلق سوال پر بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سنجیدہ جماعت ہے، اختلاف یا ناراضگی کا اظہار ضرور ہو مگر طریقہ کار جمہوری ہونا چاہیے، ہلڑ بازی کسی طور قابل قبول نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیرسٹر سیف نے کہا
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔