خیبرپختونخوا کے وزرا عاقب اللہ اور فیصل ترکئی نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک اور بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب خیبرپختونخوا کابینہ کے دو اہم وزرا عاقب اللہ اور فیصل ترکئی نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
دونوں وزرا کا تعلق ضلع صوابی سے ہے، عاقب اللہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی ہیں جبکہ فیصل ترکئی رکن قومی اسمبلی شاہرام ترکئی کے بھائی ہیں۔
فیصل ترکئی نے اپنے استعفے کی کاپی سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے صوبائی کابینہ سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ دونوں وزرا نے اپنے استعفے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو ارسال کیے ہیں، تاہم اس حوالے سے پارٹی کے اندرونی اختلافات پر چہ مگوئیاں تیز ہوگئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے سخت مؤقف نے پارٹی میں اندرونی کشمکش کو مزید ہوا دی ہے جس کے نتیجے میں یہ استعفے سامنے آئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں پر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں جس سے پارٹی میں دھڑے بندی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان فراز مغل نے واضح کیا کہ وزرا نے ذاتی طور پر استعفے جمع کرائے ہیں اور وزیراعلیٰ نے ان سے استعفے طلب نہیں کیے تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کسی دباؤ یا حکومتی اقدام کا عمل دخل نہیں ہے بلکہ یہ وزرا کا ذاتی فیصلہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل ترکئی نے اپنے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔