پارٹی تقسیم کا شکار‘ علیمہ کو سربراہ بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے: گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پشاور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے بانی پی ٹی آئی سے علیمہ خان کی شکایت کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو صورت حال سے آگاہ کرنا میری ذمہ داری تھی۔ علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو میں الزام اور صوبائی وزراء کے مستعفی ہونے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ویڈیو پیغام جاری کیا۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے پانچ ماہ بعد ملاقات ہوئی اور ان کی ہدایت کے مطابق صوبائی کابینہ میں تبدیلی کی ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے گزشتہ ملاقات میں بھی حکومت میں تبدیلیوں اور اصلاحات کے حوالے سے بات ہوئی تھی۔ بجٹ کی وجہ سے ہم نے تبدیلیاں روک دیں تھیں تاہم بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد گزشتہ روز عاقب اللہ، فیصل ترکئی کو بلا کر عمران خان کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا جس پر انہوں نے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین میرا لیڈر اور میں اس سے وفادار ہوں۔ میرا یہ حق بنتا ہے کہ انہیں سچی بات بتاؤں کیونکہ شکایت منافق لوگ کرتے ہیں اور میں نے کوئی شکایت نہیں کی۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ پارٹی میں بہت بڑی تقسیم آچکی ہے۔ بجٹ پیش کرنے کے بعد میرے خلاف غداری کی مہم چلائی گئی اور اگر ہم بجٹ پاس نہ کرتے تو پھر قانونی طور پر نااہل ہوجاتے۔ اس پر کہا گیا کہ میں مائنس عمران خان پر کام کررہا ہوں۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میں نے یہ بھی بتایا کہ حفیظ اللہ نیاری کالم میں علیمہ خان کو وزیراعظم اور چیئرپرسن پی ٹی آئی لکھ رہے ہیں اور علیمہ خان کو پی ٹی آئی کی چیئرپرسن بنانے کی منظم مہم چلائی جارہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو کہا کہ اس طرح کی مہم چلا کر پارٹی میں مایوسی پھیلائی جارہی ہے جس سے پارٹی کو نقصان ہوگا اور رہائی کیلئے اقدامات کے بجائے اختلافات بڑھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی سے علیمہ خان نے کہا کہ گنڈا پور کہ بانی
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔