قطر پر کیا جانے والا حملہ امریکا پر حملہ تصور ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
واشنگٹن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 اکتوبر2025ء ) قطر پر کیا جانے والا حملہ امریکا پر حملہ تصور ہوگا ، امریکا نے قطر کو سیکیورٹی گارنٹی دے دی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکیٹو آرڈر میں قطر کو سیکیورٹی ضمانتیں دے دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کو سیکورٹی ضمانت کے حوالے سے نئے ایگزیکیٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے دستخط کیے گئے ایگزیکیٹو آرڈر میں کہا گیا کہ اگر قطر دوبارہ کسی بیرونی حملے کا نشانہ بنا تو امریکا نہ صرف اس کا دفاع کرے گا بلکہ جوابی فوجی کارروائی بھی کرے گا۔ ایگزیکٹو آرڈر میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور قطر قریبی تعاون، مشترکہ مفادات اور مسلح افواج کے درمیان مضبوط تعلقات سے جُڑے ہیں۔(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ قطر ایک پُرعزم اتحادی ہے جو امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ بیرونی خطرات کے پیشِ نظر امریکا قطر کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب قطر پر ہونے والا کوئی بھی حملہ امریکا پر حملہ تصور ہوگا۔ واضح رہے کہ خطہ خلیج میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ قطر میں موجود ہے، تاہم اس کے باوجود حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے دوحہ پر حملہ کر کے غزہ جنگ کے حوالے سے جاری مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ 2 روز قبل ہی اسرائیلی وزیر اعظم نے قطر سے دوحہ حملے پر معذرت کی تھی، جس کے بعد اب امریکی صدر نے قطر کو سیکورٹی ضمانت دینے کے حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کر دیا۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر پر حملہ قطر کو
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔