امریکی کانگریس سے فنڈنگ بل منظور نہ ہونے پر اکثر امریکی محکمے بند ہونے لگے
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
محکمے بند ہونے پر 7 لاکھ 50 ہزار وفاقی ملازمین کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ امریکی محکموں کے شٹ ڈاون ہونے سے روزانہ تقریباً 400 ملین ڈالر کا نقصان ہو گا۔ امریکا میں شٹ ڈاون سے فضائی سفر متاثر ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی کانگریس کی جانب سے فنڈنگ بِل منظور نہ ہونے پر اکثر امریکی محکمے بند ہونے لگے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ریاستی اداروں کی بندش سے روزگار سے متعلق اہم اعداد و شمار جاری نہیں ہوں گے، امریکا میں شٹ ڈاون سے فضائی سفر متاثر ہو گا اور سائنسی تحقیق معطل ہو جائے گی۔ خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ محکمے بند ہونے سے امریکی فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہو سکے گی، محکمے بند ہونے پر 7 لاکھ 50 ہزار وفاقی ملازمین کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ امریکی محکموں کے شٹ ڈاون ہونے سے روزانہ تقریباً 400 ملین ڈالر کا نقصان ہو گا۔ یاد رہے کہ سینیٹ نے 21 نومبر تک سرکاری کام کے لیے درکار عارضی اخراجاتی بل مسترد کر دیا ہے، ڈیموکریٹس نے صحت عامہ سے متعلق امور شامل نہ کرنے پر اس بل کی مخالفت کی تھی، ریپبلکنز نے لاکھوں امریکیوں کے لیے ختم ہونے والے ہیلتھ بینیفٹس کی توسیع سے بھی انکار کیا تھا۔ خبر ایجنسی کے مطابق ریپبلکنز کا مؤقف تھا کہ ہیلتھ سہولتوں کا معاملہ الگ سے حل کیا جائے، سرکاری ایجنسیوں کے لیے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمے بند ہونے ہونے پر شٹ ڈاون
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔