مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا۔اسلام آباد میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی وفود کی اسیپکرقومی اسمبلی کےچیمبر میں جاری ملاقات ختم ہوگئی۔ ملاقات میں اتحادیوں نے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا جبکہ ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال نہ کرنے کی بھی یقین دہانی بھی کروا دی گئی۔
ملاقات میں اسپیکر ایازصادق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،رانا ثنااللہ، اعظم نذیر تارڑ، طارق فضل چوہدری اوررانا مبشر شریک تھے۔ پیپلز پارٹی وفد میں سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل تھے۔قبل ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے پیپلزپارٹی کے وفد نے ملاقات میں پیپلزپارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔پیپلزپارٹی کا مؤقف تھا کہ ہمارے کسی لیڈر، کارکن نے پنجاب سے متعلق کوئی متنازعہ گفتگو نہیں کی۔ پی پی رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے کسی کارکن، پارٹی عہدیدار، رہنما نے پنجاب پر تنقید یا سوشل میڈیا پرلکھا ہے تو ثبوت دیں۔ اگرثبوت نہیں تو مریم نواز اپنے بیان واپس لے۔
قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبد اللہ کی الوداعی ملاقات
قبل ازیں وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی ناراضگی دور کرنے کا فیصلہ کیا، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نےاسحاق ڈار سے ملاقات کرکے پیپلزپارٹی تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز پیپلزپارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ کردیا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیپلزپارٹی نے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز