اسرائیل نے غزہ میں خوراک اور ادویہ لے جانے کی کوشش پر گرفتار کیے گئے 500 رضاکاروں میں مزید 170 کو ان کے ملک واپس بھیج دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق ان افراد کو جنوبی اسرائیل کے رامون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے یونان اور سلواکیہ بھیجا گیا۔

آج جن رضاکاروں کو ملک بدر کیا ہے ان میں سویڈن کی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

گریٹا تھنبرگ سمیت کئی رضاکاروں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ انھیں غیر قانونی حراست اور غیر انسانی حالات میں رکھا گیا اور ان کی بنیادی آزادیوں کو سلب کیا گیا۔

ادھر اسرائیلی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران ایک ہسپانوی رضاکار نے جیل میں ایک طبی عملے کو کاٹ لیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 341 رضاکار ملک بدر کیے جا چکے ہیں جبکہ 138 اب بھی زیر حراست ہیں۔

ملک بدر کیے جانے والوں کا تعلق یونان، اٹلی، فرانس، آئرلینڈ، سویڈن، پولینڈ، جرمنی، بلغاریہ، لتھوانیا، آسٹریا، لگزمبرگ، فن لینڈ، ڈنمارک، سلواکیہ، سوئٹزرلینڈ، ناروے، برطانیہ، سربیا اور امریکا سے ہے۔

یاد رہے کہ ’’صمود فلوٹیلا‘‘ 43 کشتیوں پر مشتمل قافلہ تھا جو 27 ستمبر 2025 کو ترکیہ اور یونان کے بندرگاہوں سے روانہ ہوا۔

ان کشتیوں میں المہ، سیریئس، فریڈم، الکریم اور ہوپ شامل تھیں، جن پر یورپ اور امریکا سمیت 20 سے زائد ممالک کے 500 سے زیادہ کارکن سوار تھے۔

ان کا مقصد غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔

یہ سفر تقریباً ایک ہفتے جاری رہا لیکن اسرائیلی بحریہ نے یکم اکتوبر 2025 کو بحیرۂ روم میں ان کشتیوں کو روک لیا اور سب رضاکاروں کو حراست میں لے کر قید خانوں میں منتقل کر دیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملک بدر

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان