اسرائیل نے گریٹا تھنبرگ سمیت مزید 170 رضاکاروں کو ملک بدر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اسرائیل نے غزہ میں خوراک اور ادویہ لے جانے کی کوشش پر گرفتار کیے گئے 500 رضاکاروں میں مزید 170 کو ان کے ملک واپس بھیج دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق ان افراد کو جنوبی اسرائیل کے رامون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے یونان اور سلواکیہ بھیجا گیا۔
آج جن رضاکاروں کو ملک بدر کیا ہے ان میں سویڈن کی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
گریٹا تھنبرگ سمیت کئی رضاکاروں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ انھیں غیر قانونی حراست اور غیر انسانی حالات میں رکھا گیا اور ان کی بنیادی آزادیوں کو سلب کیا گیا۔
ادھر اسرائیلی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران ایک ہسپانوی رضاکار نے جیل میں ایک طبی عملے کو کاٹ لیا تھا۔
اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 341 رضاکار ملک بدر کیے جا چکے ہیں جبکہ 138 اب بھی زیر حراست ہیں۔
ملک بدر کیے جانے والوں کا تعلق یونان، اٹلی، فرانس، آئرلینڈ، سویڈن، پولینڈ، جرمنی، بلغاریہ، لتھوانیا، آسٹریا، لگزمبرگ، فن لینڈ، ڈنمارک، سلواکیہ، سوئٹزرلینڈ، ناروے، برطانیہ، سربیا اور امریکا سے ہے۔
یاد رہے کہ ’’صمود فلوٹیلا‘‘ 43 کشتیوں پر مشتمل قافلہ تھا جو 27 ستمبر 2025 کو ترکیہ اور یونان کے بندرگاہوں سے روانہ ہوا۔
ان کشتیوں میں المہ، سیریئس، فریڈم، الکریم اور ہوپ شامل تھیں، جن پر یورپ اور امریکا سمیت 20 سے زائد ممالک کے 500 سے زیادہ کارکن سوار تھے۔
ان کا مقصد غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔
یہ سفر تقریباً ایک ہفتے جاری رہا لیکن اسرائیلی بحریہ نے یکم اکتوبر 2025 کو بحیرۂ روم میں ان کشتیوں کو روک لیا اور سب رضاکاروں کو حراست میں لے کر قید خانوں میں منتقل کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملک بدر
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔