وزیراعلیٰ مریم نواز کے بڑھتے بیانات، پیپلز پارٹی پنجاب کا صوبائی حکومت کے ساتھ مزید چلنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پنجاب میں سیلاب متاثرین کو امداد کی فراہمی کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے بیانات پر معافی مانگیں، تاہم مریم نواز واضح کر چکی ہیں کہ وہ معافی نہیں مانگیں گی۔ اس مؤقف سے ن لیگ کے صدر نواز شریف نے بھی اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ مریم نواز سے معافی کا مطالبہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غلط ہے۔
اس سیاسی تنازع کے ردِعمل میں پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کو دی گئی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔
مزید پڑھیں: عظمیٰ بخاری کی شرجیل میمن پر تنقید، بلاول اور یوسف رضا گیلانی کو معتبر قرار دے دیا
یہ سیکیورٹی انہیں علی حیدر گیلانی کی طالبان سے رہائی کے بعد شہباز شریف کے دورِ حکومت میں 9 سال قبل فراہم کی گئی تھی۔ وی نیوز سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حیدر گیلانی نے کہا کہ اب بات حد سے بڑھ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی کابینہ بلاول بھٹو پر بے جا تنقید کریں گے تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بطور پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی، وہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اب حکومتی بینچوں سے علیحدہ ہو کر اسمبلی میں بیٹھے۔
مزید پڑھیں: شرجیل میمن اور عظمیٰ بخاری آمنے سامنے آگئے
ان کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے چیئرمین بلاول بھٹو کو آگاہ کر دیا گیا ہے، جنہوں نے ہدایت کی ہے کہ یہ معاملہ سی ای سی (سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی) کے اجلاس میں زیرِ غور لایا جائے۔
حیدر گیلانی کے مطابق، سی ای سی کا اجلاس اسی ماہ منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کو درپیش دباؤ پر تفصیلی بات کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ان دنوں کامن ویلتھ کانفرنس کے سلسلے میں لندن میں موجود ہیں، جہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ ان کے بقول، پنجاب اسمبلی میں علیحدگی کے فیصلے پر اسپیکر سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ذہنی دباؤ ہے یا جان بوجھ کر پروپیگنڈا کر رہے ہیں، عظمیٰ بخاری کا ندیم افضل چن کے بیان پر ردعمل
پنجاب حکومت کا مؤقفوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب اسمبلی میں حکومتی بینچوں سے الگ ہونا چاہتی ہے تو یہ ان کا پارٹی معاملہ ہے، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سندھ میں حکومت میں ہیں مگر پنجاب پر بلا جواز تنقید کر رہے ہیں۔ ہم سیلاب متاثرین کی امداد کے معاملے پر پنجاب حکومت کے خلاف انگلی اٹھانے نہیں دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب چیئرمین بلاول بھٹو سندھ سیلاب شرجیل میمن عظمیٰ بخاری علی حیدر گیلانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین بلاول بھٹو سیلاب شرجیل میمن علی حیدر گیلانی پنجاب اسمبلی پیپلز پارٹی حیدر گیلانی مریم نواز
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔