کوئٹہ میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ علی حسنین نے کہا کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس اور فلسطینی عوام نے اسرائیلی ظلم و ستم کا جواب دیکر پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فلسطین کے عوام مظلوم ضرور ہیں، لیکن وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہونے والے نہیں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے رہنماء و امام جمعہ کوئٹہ علامہ علی حسنین حسینی نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے با ضمیر افراد ہمیشہ مظلوم فلسطینی عوام کا ساتھ دیں گے۔ قابض اسرائیلی رجیم کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ فلسطین کے حوالے سے دہائیوں قبل ہمارے اپنائے گئے موقف کو آج پوری دنیا کے لوگ تسلیم کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علمدار روڈ میں ایم ڈبلیو ایم کے دفتر میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ علی حسنین نے کہا کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس اور فلسطینی عوام نے اسرائیلی ظلم و ستم کا جواب دے کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فلسطین کے عوام مظلوم ضرور ہیں، لیکن وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہونے والے نہیں ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب حتیٰ کہ بعض مسلمانوں کا جکاؤ بھی اسرائیلی رجیم کی طرف تھا، حماس نے اسرائیل کی اصلیت دنیا کو دکھا کر حق کا علم بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج یورپ، برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت پوری دنیا میں فلسطین کے حق میں اجتماعات اور مظاہرے فلسطینی عوام کی انتھک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں دنیا کے بیشتر ممالک نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرکے فلسطینی عوام کے موقف کی تائید کی ہے۔

ایم ڈبلیو ایم رہنماء نے کہا کہ آج سے چالیس سال قبل ہمارے مذہبی رہنماؤں نے مسئلہ فلسطین پر واضح موقف اختیار کیا تھا۔ بعض مسلم ممالک اس موقف پر راضی نہیں تھے، حتیٰ کہ اسرائیل سے اپنے تعلقات بہتر بنا رہے تھے، تاہم آج وہ حکمران فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر سطح پر اپنا موقف واضح کرکے فلسطینی عوام کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ پاکستان کے عوام فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ علامہ علی حسنین نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے جرات اور حوصلے کو داد دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ پاکستان کی شخصیات بھی عالمی صمود فلوٹیلا میں شامل تھیں۔ فسلطینی عوام نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے جس پر غزہ کا محاصرہ کیا جا رہا ہے۔ یہ محاصرہ پوری انسانیت اور عالمی قوتوں کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں پاکستانی عوام کا وہی موقف ہے جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا موقف تھا۔ وہ ہمیں اسرائیل کے سلسلے میں سمت دکھا چکے ہیں۔ پاکستانی قوم ایک آزاد فلسطینی ریاست چاہتی ہے، جس کا ایک بھی اینچ کسی کے قبضے میں نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ علی حسنین فلسطینی عوام پوری دنیا فلسطین کے نے کہا کہ دنیا کے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا