پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کو کاروباری دن کے دوران غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث اختتامی اوقات میں فروخت کو ترجیح دی۔

کاروبار کے آغاز پر مارکیٹ مندی کا شکار رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 2,000 سے زائد پوائنٹس گر کر 162,411.25 کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس میں 1600 پوائنٹس کی کمی

تاہم، بعد ازاں تیزی سے ریکوری دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 165,262.

85 کی بلند ترین سطح کو چھوگیا۔

Market Close Update: Negative Today! ????
???????? KSE 100 ended negative by -1,432.6 points (-0.87%) and closed at 163,098.2 with trade volume of 607.6 million shares and value at Rs. 34.84 billion. Today's index low was 162,411 and high was 165,263. pic.twitter.com/xcKaGS78lo

— Investify Pakistan (@investifypk) October 10, 2025

کاروباری سیشن کے آخری گھنٹوں میں دوبارہ منافع لینے کا دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی۔

کاروباری ہفتے کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,432.61 پوائنٹس یعنی 0.87 فیصد کمی کے ساتھ 163,098.19 پر بند ہوا۔

آٹوموبائل، کمرشل بینکنگ، فرٹیلائزر اور آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ غالب رہا۔

مزید پڑھیں: اہم شعبوں میں شیئرز کی فروخت کا دباؤ، اسٹاک مارکیٹ گراوٹ سے دوچار

انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے نمایاں اسٹاکس، جیسے ماری پٹرولیم، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایم سی بی، نیشنل بینک اور یو بی ایل سرخ نشان پر بند ہوئے۔

اس دوران ایک اہم معاشی پیشرفت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ستمبر 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہانہ بنیادوں پر بھی ترسیلات میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 69 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا

علاوہ ازیں، کے الیکٹرک کے شیئرز کی خرید و فروخت اور مستقبل کے اشتراک کے حوالے سے دو اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

ایک معاہدہ کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے حصص کی خرید و فروخت سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا کے الیکٹرک اور ٹرائیڈنٹ انرجی لمیٹڈ کے درمیان پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری اور تعاون پر دستخطوں کے ساتھ منتج ہوا۔

گزشتہ روز یعنی جمعرات کو بھی مارکیٹ میں عمومی مندی کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 735.94 پوائنٹس یعنی 0.45 فیصد کمی کے بعد 164,530.81 پر بند ہوا۔

مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟

بین الاقوامی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔ ایشیائی مارکیٹس ہفتے کے اختتام پر محتاط رویہ اپنائے ہوئے تھیں۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ میں کمی کا تسلسل برقرار رہا۔ ہانگ کانگ کی مارکیٹ 1.1 فیصد جبکہ آسٹریلوی مارکیٹ 0.1 فیصد نیچے رہی۔

البتہ جنوبی کوریا کا انڈیکس 1.7 فیصد کے اضافے کے ساتھ خطے کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ بن گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس اسٹیٹ بینک پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایس ای مندی نیشنل بینک یو بی ایل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس اسٹیٹ بینک پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایس ای یو بی ایل

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا