data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خرطوم: سوڈان کے صوبہ شمالی دارفور کے محصور شہر الفاشر میں ایک بار پھر خونی حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جہاں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے حملوں میں ایک مسجد اور اسپتال پر بمباری کے نتیجے میں کم از کم 20 شہری جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق نشانہ بننے والا اسپتال سعودی عرب کے تعاون سے چلایا جا رہا تھا اور یہ علاقے کا آخری فعال طبی مرکز تھا جہاں **ہزار سے زائد مریض زیر علاج تھے۔ اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ زچہ و بچہ وارڈ کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے درجنوں خواتین، مریض اور طبی عملہ ہلاک یا زخمی ہوا۔

اسی دوران مسجد پر ہونے والے حملے میں بھی ہولناک جانی نقصان ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد میں بے گھر خاندانوں نے پناہ لے رکھی تھی جب گولہ باری کی زد میں آکر 10 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (OCHA) اور ادارہ برائے تولیدی صحت نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ہفتے کے دوران اسپتال پر تیسرا حملہ ہے، جس سے علاقے کی صحت کی سہولیات مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ ترجمان اقوامِ متحدہ اسٹیفن دوجارک کے مطابق، الفاشر کے لوگ محصور، خوفزدہ اور امداد سے محروم ہیں، اور اب ان کا آخری اسپتال بھی خطرے میں ہے۔

واضح رہے کہ الفاشر گزشتہ ایک سال سے RSF کے محاصرے میں ہے۔ نیم فوجی تنظیم کے ڈرون اور توپ خانے کے حملے مسلسل جاری ہیں، جنہوں نے شہر کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔

سوڈان میں یہ خانہ جنگی اپریل 2023 میں اُس وقت شروع ہوئی جب ملکی فوج اور نیم فوجی دستے نے اقتدار پر قبضے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی شروع کی۔ اس خونریز تنازع نے ملک کو دنیا کے بدترین انسانی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 3 کروڑ سے زائد سوڈانی امداد کے محتاج ہیں، جن میں سے 1 کروڑ 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ 40لاکھ افراد پڑوسی ممالک چاڈ، وسطی افریقی جمہوریہ اور جنوبی سوڈان کی جانب ہجرت کر چکے ہیں۔

علاوہ ازیں، 7 اور 8 اکتوبر کو زغاوہ قبیلے کے اندرونی تصادم کے باعث 250 سے زائد افراد مزید بے گھر ہوگئے، جس سے الفاشر اور اردگرد کے علاقوں میں انسانی المیہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق

شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔ 

حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے