افغانستان کے عوام پر احسان
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
طالبان حکومت ہر لمحہ افغانستان کو ہزاروں سال پیچھے لے جانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ طالبان کی شوریٰ نے گزشتہ ہفتے اس بات کا ادراک کر لیا کہ جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی شیطان کی ایجاد ہے، اس بناء پر شوریٰ نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے پورے افغانستان میں انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن کی تمام سہولتوں کو معطل کردیا۔ افغان حکومت کے فیصلے پر فوری عمل درآمد ہوا اور پورے افغانستان میں انٹرنیٹ سروس بند ہوگئی۔
انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے موبائل فون اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم تو بند ہوئے ہی اس کے ساتھ ہی لینڈ لائن ٹیلی فون کی سروس بھی معطل ہوگئی۔ یوں بینکنگ سروس سے لے کر ہوائی سفر بھی معطل ہوا۔ اس سے پہلے 16 ستمبر کو بلخ صوبہ کے ترجمان عطاء اللہ زید نے یہ اعلان کیا تھا کہ شمالی صوبہ میں انٹرنیٹ سروس اب معطل رہے گی۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے رپورٹر نے یہ خبر دی تھی کہ پہلے مرحلے میں بدخشاں، تاخر Takhar ، قندھار اور ہلمند صوبوں میں انٹرنیٹ معطل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا پھر شوریٰ نے یہ محسوس کیا کہ اس شیطانی چرغہ کو پورے ملک میں بند کردیا جائے۔ انٹرنیٹ کی بندش سے کابل سمیت افغانستان بھرکا فلائیٹ آپریشن معطل ہوا۔
کراچی میں مقیم ایک پاکستانی صحافی کی رپورٹ کے مطابق کابل ایئرپورٹ سے دبئی، استنبول، ماسکو، دہلی اور جدہ جانے والی پروازیں معطل ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان کے مختلف شہروں میں قندھار، مزار شریف اور ہرات کے ایئرپورٹ عملی طور پر بند ہوگئے۔ انٹرنیٹ بند ہونے سے پورے افغانستان میں بینکنگ سروس، Online Education سروس بھی معطل ہوئی، پھر 48گھنٹوں بعد انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا فیصلہ ہوا۔ امریکی فوج نے کروڑوں ڈالر کے سرمائے سے پورے افغانستان میں انٹرنیٹ سروس کے کیبلز بچھائے تھے۔
طالبان حکومت نے فحاشی اور عریانی روکنے کے نام پر گزشتہ مہینے خواتین کی تحریر کردہ کتابوں کی یونیورسٹیوں میں تدریس کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ طالبان حکومت کے اس فیصلہ کے تحت خواتین کی تحریر کردہ 140 کتابوں پر پابندی عائد کی گئی۔ ان کتابوں میں Safety in the Chemical Laboratoryکے عنوان سے شایع ہونے والی کتاب بھی شامل ہے۔
افغانستان سے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان شوریٰ کے مفکرین نے 680 کتابوں کی نشاندہی کی ہے جن میں شریعت کے خلاف مواد ہونے کے امکانات ہیں۔ ان میں وہ کتابیں بھی شامل ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ ان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مواد ہے۔ حکومت نے یونیورسٹیوں کے حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل 18 مضامین شریعت کے احکامات کے خلاف ہیں، اس بناء پر ان مضامین کی اب تدریس نہیں ہوگی، ان مضامین میں سائنس اور سماجی علوم کے موضوعات شامل ہیں۔
طالبان کو بینک سائنس کے مضامین میں نظریہ ارتقاء اور انسانی حقوق، جینڈر ڈیولپمنٹ اور Role of Women in Communication and Women in Societyشامل ہیں۔ طالبان حکومت کے اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے ڈپٹی اکیڈمک ڈائریکٹر ضیاء الرحمن عروبی نے یونیورسٹیوں کے حکام کو ایک خط میں بتایا ہے کہ یہ مذہبی اسکالرز اور ماہرین کے ایک پینل نے کہا ہے کہ جن کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان میں ایرانی اسکالرز کی کتابیں بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے اس پینل میں شامل ایک ماہر نے برطانوی خبررساں ایجنسی کے نامہ نگارکو افغانستان میں ایرانی کلچر کو روکنے کے لیے ایرانی مصنفین کی کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
کابل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے حکومت کے اس فیصلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اب یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو ان کتابوں کی جگہ مواد تیار کرنا ہوگا، مگر سوال یہ ہے کہ یہ مواد کس معیارکا ہوگا۔ جب سے طالبان حکومت برسر اقتدار آئی ہے، اس کا نشانہ خواتین اور اقلیتیں ہیں۔ خواتین کے لیے اسکول،کالج اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ اب انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے جو طالبات Online تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھیں، اب ان کے لیے یہ دروازہ بھی بند کردیا گیا ہے۔
افغانستان کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ افغانستان کی کل آبادی کے بارے میں حقیقی اعداد و شمار نہیں ہیں مگر آبادی کے بارے میں تحقیق کرنے والے ماہرین کے اندازہ کے مطابق افغانستان کی آبادی 36.
بین الاقوامی ماہرین کا اندازہ ہے کہ افغانستان میں 15 سے 24 سال کی عمر کے لوگوں میں خواندگی کا تناسب 47 فیصد کے قریب ہے مگر مجموعی طور پر خواندگی کا تناسب 37.3 فیصد ہے اور خواتین میں یہ تناسب 22.6 فیصد کے قریب ہے۔ اس صورتحال میں افغانستان خوراک کی کمی کے شدید بحران میں مبتلا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی آدھی آبادی کو روزانہ کھانا نہیں مل پاتا۔ UN World Food Program کے امدادی پروگرام کی بناء پر بھوک سے اموات نہیں ہورہی ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ مہینہ خوفناک زلزلہ آیا۔ اس زلزلے میں 2 ہزار 200 کے قریب اموات ہوئیں اور تقریباً 3 ہزار 600 افراد زخمی ہوئے۔ سڑکوں کے ٹوٹنے اور مواصلات کے ذرایع مخدوش ہونے کی بناء پر امدادی جماعتیں بہت دیر سے متاثرہ علاقوں تک پہنچیں اور بہت سے زخمی فوری طور پر اسپتالوں تک نہ پہنچنے کی بناء پر موت کے منہ میں چلے گئے۔
ایک طرف افغانستان میں تباہی ہے تو دوسری طرف افغان حکومت تحریک طالبان پاکستان اور داعش کے جنگجوؤں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان جنگجوؤں نے خیبر پختون خوا کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور یہ پورا علاقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان حکومت کے نظریاتی اتحادی ہیں۔
ٹی ٹی پی کے جنگجو پختون خوا میں ویسی ہی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں جیسی شریعت افغانستان میں طالبان نے نافذ کی ہے اگرچہ افغانستان کے پڑوسی ممالک روس، چین، ایران اور پاکستان کے وزراء خارجہ کے ایک اعلامیہ میں افغانستان کی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے علاقے میں ان دہشت گردوں کو کنٹرول کرے اور اس امرکو یقینی بنایا جائے کہ سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی نہ ہو مگر محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان کی حکومت ان پڑوسیوں کی بات سننے کو تیار نہیں ہے، یوں حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ افغانستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے افغانستان پر جو پابندیاں عائد کی ہیں، ان پابندیوں سے افغانستان میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس بناء پر یہ پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور افغانستان کے منجمد اثاثے بحال ہونے چاہئیں۔
اقوام متحدہ نے یہ پابندیاں خواتین کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے، اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے اور دہشت گردوں کی سرپرستی کی بناء پر عائد کی ہیں مگر افغانستان کی حکومت خواتین کو برابر کے حقوق دینے اور اقلیتی فرقوں کے افراد کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کے بجائے مزید ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے محسوس ہوتا ہے کہ طالبان افغانستان کو 2ہزار سال پیچھے لے جانے کے لیے پالیسیاں بنا رہے ہیں، جو لوگ اب بھی طالبان حکومت سے اچھی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، انھیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، اگر دائیں بازو کی جماعتیں طالبان کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کے لیے قائل کرسکیں تو یہ افغانستان کے عوام پر بڑا احسان ہوگا اور پورے خطے میں سکون و امن آجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان کی حکومت پورے افغانستان میں ہے کہ افغانستان یونیورسٹیوں کے پر پابندی عائد انٹرنیٹ سروس طالبان حکومت افغانستان کے میں انٹرنیٹ کی بناء پر شامل ہیں حکومت کے عائد کی کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان