پاکستانی کوہ پیما اسد علی میمن نے تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پاکستانی کوہ پیما اسد علی میمن نے ساتوں برِاعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کا سفر مکمل کر کے تاریخی کارنامہ سر انجام دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق کوہ پیما اسد علی میمن نے اوشیانا کی سب سے بلند چوٹی سر کر کے عالمی سطح پر مشہور سیون سمٹس چیلنج مکمل کر لیا۔
اسد علی میمن نے 2019 میں یورپ کی ماؤنٹ البرس جبکہ 2020 میں جنوبی امریکا کی اکونکاگوا کو سر کیا تھا۔
پاکستانی کوہ پیما نے 2021 میں افریقا کی کیلیمنجرو اور 2022 میں شمالی امریکا کی ماؤنٹ دینالی کو سر کیا تھا۔
2023 میں انہوں نے ایشیا اور دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا تھا جبکہ رواں سال کے آغاز میں انٹارٹیکا کی ماؤنٹ ونسن کو بھی سر کیا تھا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسد علی میمن نے سر کیا تھا کوہ پیما
پڑھیں:
پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر ایک بلند مقام پر کھڑا ہے، مسعود خان
سابق صدر آزاد کشمیر نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب میں سابق قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف سمیت متعدد ماہرینِ تعلیم بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں سردار مسعود خان نے ڈاکٹر معید یوسف کو بی این یو میں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ عالمی طاقتوں میں مسابقت اور باہمی انحصار کا موجودہ ماحول تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور چین ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود اقتصادی، تکنیکی اور اسٹریٹیجک معاملات میں ایک دوسرے پر گہرا انحصار رکھتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ دو ہزار کی دہائی میں مغربی صنعتوں کا بڑی حد تک چین منتقل ہونا آج کے عالمی معاشی نقشے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سردار مسعود خان نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو ’’اقتصادی گرفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے یورپی،لاطینی امریکہ، کینینڈا اور آسٹریلیا تک اپنے خاموش لیکن مؤثر اثرات بڑھا کر امریکی برتری کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان،چین اور امریکہ کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کے امکانات کم ہیں، تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام کمزور ہو چکا ہے، جس میں امریکہ کی پالیسی تبدیلیوں خصوصاً صدر ٹرمپ کے دور کی ازسرِنو سفارتی تشکیل نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی موجودہ حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر نسبتاً ایک بلند مقام پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر معمولی سطح پر پاکستان کی تعریف اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل ہے۔ سردار مسعود خان نے زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کیمپ میں کھڑے ہونے کے بجائے دونوں ممالک کے ساتھ جامع اور متوازن تعلقات استوار رکھے۔دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کو قابلِ اعتماد اور مستحکم رکھنا ہو گا بلکہ روایتی دفاعی طاقت کا توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مضبوط دفاع کا انحصار صرف عسکری قوت پر نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی پر بھی ہوتا ہے۔
انہوں نے سی پیک پر چینی قیادت کے بھرپور اعتماد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ بیجنگ کے دوران سی پیک فیز ٹو کا آغاز اور 10 ارب ڈالر کے اضافی معاہدے اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ چین کی شراکت داری نہ صرف برقرار ہے بلکہ وسعت اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ساختی تبدیلیوں اور ٹیک اسٹارٹ اپس کی بحالی کو ترجیح دینا ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک معاشرے کے کمزور طبقات کو مواقع اور تحفظ نہیں دیا جاتا، ترقیاتی پالیسیاں پائیدار نہیں ہو سکتیں۔ سابق سفیر نے یاد دلایا کہ 1970ء کی دہائی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی پاکستان اقتصادی و تکنیکی رابطوں کا ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔