سول اسپتال کراچی میں آکسیجن سپلائی کے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کا افتتاح کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
سول اسپتال کراچی میں آکسیجن سپلائی کے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سول اسپتال کراچی میں آکسیجن سپلائی کے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت تمام پانچ بلڈنگز کے چالیس وارڈز میں آکسیجن کی فراہمی مرکزی طور پر کنٹرول ہوگی۔
ہر وارڈ کے باہر علیحدہ کنٹرول لاک نصب کیا گیا ہے، تاکہ ہنگامی صورتحال میں کسی ایک وارڈ کی سپلائی بند ہونے سے دیگر وارڈز متاثر نہ ہوں۔ یہ سندھ کا پہلا اسپتال ہے جہاں اس نوعیت کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
سول اسپتال کراچی میں آکسیجن سپلائی اپ گریڈیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر وقار مہدی، جاوید ناگوری اور اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بخاری شریک تھے۔
سینیٹر وقار مہدی نے فیتہ کاٹ کر منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال میں آکسیجن سپلائی کا مسئلہ طویل عرصے سے درپیش تھا، جسے اب جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے حل کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام پانچ بلڈنگز کے چالیس وارڈز کو آکسیجن کی فراہمی جدید نظام سے ہوگی، جو مرکزی طور پر کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا یہ واحد اسپتال ہے جہاں اس نوعیت کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ سول اسپتال کی ٹیم انسانیت کی خدمت کر رہی ہے اور سندھ و بلوچستان کے مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
وقار مہدی نے کہا کہ جو لوگ پوچھتے ہیں کہ سندھ نے کیا کام کیے ہیں، وہ آئیں تو میں انہیں سترہ نہیں بلکہ سترہ سو منصوبے دکھا سکتا ہوں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت پر یقین رکھا ہے، ہم چولہا جلانے پر یقین رکھتے ہیں، بجھانے پر نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں کسی بھی مد میں وصول کی جانے والی فیسوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سول، جناح یا کسی بھی سرکاری اسپتال میں ادویات اور ٹیسٹ مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر خالد بخاری نے بتایا کہ سندھ حکومت اور محکمہ صحت کے تعاون سے آکسیجن اپ گریڈیشن منصوبے پر چار سے پانچ کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ مزید ترقیاتی منصوبے بھی زیرِ تکمیل ہیں، جن میں نیا ٹاور اور ایمرجنسی بلاک کی تعمیر شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ صحت سندھ کی خصوصی توجہ سول اسپتال پر مرکوز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جدید کمپیوٹرائزڈ نظام نے کہا کہ انہوں نے گیا ہے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔