قبائلی عوام کا افغانستان سے آنیوالے دہشتگردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: قبائلی عوام نے افغانستان کی سرزمین سے آنے والے دہشت گردوں کے خلاف خود ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک پشتو آڈیو پیغام میں مقامی قبائلیوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ وطن کے دفاع کے لیے پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ وطن کا دفاع ہم پر فرض ہے اور ہم اس کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں۔
ہم نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کو سبق سکھایا تھا اور اگر دوبارہ ایسی حرکت کی گئی تو پھر سبق سکھانا ہمیں آتا ہے۔
قبائلی عوام نےافغانستان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کردیا
قبائلی عوام نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد مسلسل پاکستانی سرحدی علاقوں میں دراندازی کر رہے ہیں جس پر حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو بھرپور جواب دینا ہوگا۔
قبائلی عمائدین نے یہ بھی واضح کیا کہ امن قائم رکھنے کے لیے وہ سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں کا دفاع کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قبائلی عوام
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔