Jasarat News:
2026-07-24@01:57:02 GMT

این ایل ایف کی WWFگورننگ باڈی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) کی گورننگ باڈی کی دوبارہ تشکیل کا نوٹیفکیشن 29 ستمبر 2025ء ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان (NLF) کی ملک کی سب سے بڑی اور نمائندہ ورکرز فیڈریشن ہے، ہمیں اس نوٹیفکیشن پر قانونی اعتراض ہے یہ نوٹیفکیشن صوبائی حکومتوں کی سفارش پر جاری کیا گیا ہے جس میں کچھ افراد کو ورکرز کے نمائندے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ تاہم نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، حالانکہ یہ ملک کی سب سے بڑی نمائندہ ورکرز فیڈریشن ہے۔ ہماری فیڈریشن کے کسی بھی رکن کو گورننگ باڈی میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ عمل واضح طور پر ورکرز کی نمائندگی اور اجتماعی مشاورت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جیسا کہ ILO کنونشنز (C.

87، C.98، C.144) میں بیان ہے، جن کے پاکستان دستخط کنندہ ہے۔
بحوالہ ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس 1971، سیکشن 7(1) اور 7(2):۔
وفاقی حکومت بذریعہ نوٹیفکیشن آفیشل گزٹ میں فنڈ کی گورننگ باڈی قائم کرے گی، جس میں ورکرز، آجر اور حکومت کے نمائندے شامل ہوں گے۔ چیئرمین اور دیگر ممبران وفاقی حکومت کی طرف سے مقرر ہوں گے۔
WWF رولز، 1976، رول 3(1):
چیئرمین اور ایکس آفیشیو ممبران کے علاوہ دیگر ممبران کی مدت دو سال ہوگی اور تمام تقرریاں وفاقی حکومت کی طرف سے نمائندہ ورکرز تنظیموں سے مشاورت کے بعد کی جائیں گی۔
مزید برآں، بلوچستان سے نامزد فرد کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں:
وہ ایک ایسی بجلی کمپنی کے ملازم ہیں جو WWF کا رکن یا چندہ دہندہ نہیں۔
وہ EOBI یا سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ نہیں ہیں، اس لیے وہ گورننگ باڈی میں ورکرز کے نمائندے کے طور پر قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
خیبرپختونخوا سے نامزد فرد ٹریڈ یونینز کے لیے بالکل اجنبی ہیں ۔
اس سلسلے میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ 29 ستمبر 2025 کا نوٹیفکیشن اس موجودہ شکل میں منسوخ کیا جائے۔
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے ساتھ شفاف مشاورت کے بعد گورننگ باڈی کی دوبارہ تشکیل کی جائے، جیسا کہ WWF آرڈیننس 1971 سیکشن 7 اور WWF رولز 1976 رول 3 میں وضاحت ہے۔
صرف اصلی ورکرز نمائندے، جو چندہ دہندہ اداروں کے رکن اور EOBI اور سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ ہوں، گورننگ باڈی میں شامل کیے جائیں۔
اس معاملے میں غفلت گورننگ باڈی کی نمائندگی کو نقصان پہنچائے گی اور پاکستان کی قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔

ویب ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان گورننگ باڈی کی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف