گورنر نے واردات ڈالنے کی کوشش کی، نعیم پنجوتھہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پی ٹی آئی قانونی ٹیم کے رکن نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ گورنر نے واردات ڈالنے کی کوشش کی ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گورنر نے آئین کی کسی شق کا حوالہ نہیں دیا، آئین نےگورنر کو اعتراض لگانے یا استعفیٰ مسترد کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ علی امین نے تحریری استعفیٰ دیا اور ویڈیو پیغام بھی موجود ہے، دستخط پر اعتراض تب ہوتا ہے جب کوئی شخص موجود نہ ہو۔
نعیم حیدر پنجوتھہ کا کہنا تھا کہ صبح الیکشن ہوگا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہوں گے۔
واضح رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ اعتراض لگا کر واپس کردیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کنڈی کی جانب سے لکھے گئے خط میں علی امین کے دونوں استعفوں پر دستخط کو مختلف اور غیرمشابہ قرار دیا گیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وہ شہر سے باہر ہیں، 15 اکتوبر کو واپس آ ئیں گے، استعفوں کی تصدیق کے لیے وزیراعلیٰ علی امین 15 اکتوبر کو دن 3 بجے گورنر ہاؤس آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔