گورنر خیبرپختونخوا کی استعفیٰ واپس بھیجنے کی قانونی حیثیت نہیں ہے: جنید اکبر
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کا کہنا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا کی استعفیٰ واپس بھیجنے کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب ہوگا۔
جنید اکبر کا کہنا ہے کہ قانونی ٹیم تیار ہے، اس کے ساتھ مشاورت بھی ہو گئی، ہم آئینی راستہ اختیار کر رہے ہیں، آج ووٹنگ ہو گی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کنڈی نے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ اعتراض لگا کر واپس کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے استعفیٰ دیا ہے، اپوزیشن کو اگر کوئی اعتراض ہو تو وہ عدالت آسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ اعتراض لگا کر واپس کردیا ہے۔
گورنر فیصل کنڈی کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے نام سے دو متضاد استعفے موصول ہوئے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کنڈی کی جانب سے لکھے گئے خط میں علی امین کے دونوں استعفوں پر دستخط کو مختلف اور غیرمشابہ قرار دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گورنر خیبرپختونخوا
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔