امریکی صدر کی مصری ہم منصب سے اہم ملاقات، مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سب کا کردار انتہائی اہم ہے
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
شرم الشیخ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے مشترکہ کاوشوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سب کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے غزہ جنگ بندی میں حماس کے مثبت کردار کی بھی تعریف کی۔
صدر ٹرمپ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو ایک عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصر نے امن معاہدے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہم سب کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے اور آج ہم شرم الشیخ میں امن کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے کہا کہ اگر ایران کو مدد کی ضرورت ہے تو وہ ہم سے مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ صدر السیسی غزہ امن بورڈ میں شامل ہوں۔
دوسری جانب، مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے صدر ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں امن کے حصول کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مصر غزہ میں جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ ملاقات مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں امن کے انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔