مودی حکومت "آر ٹی آئی" قانون کو کمزور اور جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
کانگریس صدر نے کہا کہ 2019ء میں مودی حکومت نے آر ٹی آئی ایکٹ میں کٹوتی کی، انفارمیشن کمشنروں کی میعاد اور تنخواہوں پر پابندی لگادی اور خودمختار نگران اداروں کو ماتحت اہلکاروں کیلئے کم کیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس نے مودی حکومت پر اطلاعات کے حق (آر ٹی آئی) ایکٹ 2005 کو "منظم طریقے سے کمزور" کرنے اور جمہوریت اور شہری حقوق کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے لکھا کہ 20 سال قبل کانگریس کی قیادت والی "یو پی اے حکومت" نے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی قیادت میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینے کے لئے "آر ٹی آئی ایکٹ" نافذ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں، مودی حکومت نے آر ٹی آئی ایکٹ کو منظم طریقے سے کمزور کیا ہے، جس سے جمہوریت اور شہری حقوق کو نقصان پہنچا ہے۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ 2019ء میں مودی حکومت نے آر ٹی آئی ایکٹ میں کٹوتی کی، انفارمیشن کمشنروں کی میعاد اور تنخواہوں پر پابندی لگا دی اور خود مختار نگران اداروں کو ماتحت اہلکاروں کے لئے کم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 نے آر ٹی آئی کے مفاد عامہ کی دفعات کو کمزور کیا اور بدعنوانی کو چھپانے اور تحقیقات کو روکنے کے لئے رازداری کو ہتھیار بنایا۔ ملکارجن کھرگے نے یہ بھی کہا کہ سنٹرل انفارمیشن کمیشن طویل عرصے سے چیف انفارمیشن کمشنر کے بغیر کام کر رہا ہے، یہ اہم عہدہ گزشتہ 11 برسوں میں ساتویں مرتبہ خالی ہوا ہے اور کمیشن میں کل آٹھ اسامیاں 15 ماہ سے خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے اپیلوں کا عمل رک گیا ہے اور ہزاروں لوگوں کو انصاف سے محروم کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آر ٹی آئی ایکٹ نے آر ٹی آئی مودی حکومت کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔