افغانستان کے عوام اب طالبان حکومت کے پیچھے نہیں کھڑے، وفاقی وزیراطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام اب طالبان حکومت کے پیچھے نہیں کھڑے، اب اگر انہوں نے پھر ایسا کوئی کام کیا تو بھرپور جواب ملے گا۔
نجی ٹی وے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ پاک فوج کے بھرپور جواب کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ رک گیا ہے اورپاک فوج نے افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے، 200 سے زائد افغان طالبان ہلاک ہوئے ہیں، اپنی پوسٹیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کا وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بیان دیتا ہے، اسی رات پاکستان پر دہشت گردوں سے مل کر افغان طالبان حملہ کرتے ہیں، افغانستان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہوتی رہی، کئی بار ہم ان کو بتا چکے ہیں، ہمارے پاس جو ثبوت موجود ہیں، تانے بانے وہاں سے ملتے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ افغانستان کے عوام اب طالبان حکومت کے پیچھے نہیں کھڑے، اب اگر انہوں نے پھر ایسا کوئی کام کیا تو بھرپور جواب ملے گا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ 2014 میں آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا، بانی پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کےلیے بھی کوئی گنجائش نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔