اے ٹی ایم کیش فراڈ کیا اور اس سے آپ کیسے بچ سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: آج کل شہریوں کے ساتھ اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ کا فراڈ بڑا چل رہا ہے، جس کا شکار ہوکر آئے دن لوگ لٹ جاتے ہیں، آئیے جانتے ہیں یہ کیسے ہوتا ہے اور اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟۔
یہ ایک ایسا فراڈ ہے جس میں مجرم آپ کے نکالے گئے پیسے تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں روک لیتے ہیں،عام طور پر یہ لوگ اے ٹی ایم کے کیش سلاٹ (نوٹ نکلنے والی جگہ) پر کوئی آلہ یا رکاوٹ لگا دیتے ہیں تاکہ مشین پیسے تو نکال دے، مگر وہ صارف تک نہ پہنچ سکیں، پھر جب صارف یہ سمجھ کر چلا جاتا ہے کہ مشین خراب ہوگئی یا ٹرانزیکشن ناکام ہوگئی، تو فراڈیے واپس آ کر وہاں پھنسے ہوئے نوٹ نکال لیتے ہیں اور فرار ہو جاتے ہیں۔
سیمنٹ سستاہوگیا
بعض اوقات یہ لوگ سماجی فریب (social engineering) کا استعمال کرتے ہوئے خود کو بینک اہلکار یا مددگار ظاہر کرتے ہیں تاکہ صارف کو ٹرانزیکشن منسوخ کرنے یا کسی جعلی ہیلپ لائن پر کال کرنے پر آمادہ کر سکیں، اس دوران وہ یا تو نوٹ حاصل کر لیتے ہیں یا صارف سے کارڈ اور پن کی معلومات نکلوا لیتے ہیں۔
نیچے ایک سادہ گائیڈ دی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ دھوکا کیسے ہوتا ہے، اس کی پہچان کے لیے کیا نشانیاں دیکھی جا سکتی ہیں، اگر ایسا ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے، اور اس سے بچاؤ کے طریقے کیا ہیں۔
نادرا کی جانب سے شہریوں کیلئے نئی سہولت
فراڈیے عام طور پر یہ کیسے کرتے ہیں:
یہ لوگ اے ٹی ایم کے کیش سلاٹ پر بہت باریک آلہ یا رکاوٹ لگا دیتے ہیں تاکہ نوٹ اندر ہی پھنس جائیں اور باہر نہ نکلیں۔
کبھی وہ خود ٹرانزیکشن کرتے ہیں اور پھر شکار کے آنے کا انتظار کرتے ہیں، یا وہ کسی ایسے صارف کا انتظار کرتے ہیں جو اے ٹی ایم استعمال کرنے والا ہو۔
سماجی فریب اور توجہ ہٹانا:
اگر صارف کو مشین میں کوئی خرابی محسوس ہو تو یہ لوگ بینک اہلکار یا مددگار بن کر سامنے آتے ہیں، تاکہ اسے الجھا سکیں، رقم نکالنے کی کوشش ترک کرائیں، یا کسی جعلی نمبر پر کال کرنے کو کہیں۔ جیسے ہی صارف پیچھے ہٹتا ہے، یہ لوگ پھنسے ہوئے نوٹ نکال لیتے ہیں۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025ء منظور، اپوزیشن کا شور شرابا
ایسے اشارے جن سے پتہ چل سکتا ہے کہ اے ٹی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے:
مشین کا سامنے کا حصہ یا کیش سلاٹ ڈھیلا، ٹیڑھا یا ٹوٹا ہوا ہو۔
کوئی نیا گوند یا ٹیپ لگا ہوا دکھائی دے۔
نوٹ نکلنے والی جھلّی غیر معمولی طور پر بھاری، ڈھیلی یا مختلف رنگ و ساخت کی ہو۔
کیش سلاٹ میں کوئی غیر متعلقہ چیز پھنسی ہوئی ہو۔
اردگرد کوئی مشکوک شخص کھڑا ہو جو بینک کا اہلکار نہ لگے۔
مشین پر کوئی نیا یا غیر سرکاری فون نمبر یا اسٹیکر لگا ہو۔
اگر مشین آپ کو “اپنے نوٹ لیں” کا پیغام دے مگر نوٹ ظاہر نہ ہوں تو فوراً محتاط ہو جائیں۔
اگر آپ شکار بن جائیں تو کیا کریں:
پاک فوج نے برطانوی کیمبرین پیٹرول2025 میں گولڈ میڈل جیت لیا
اے ٹی ایم کے پاس ہی رہیں، وہاں سے فوراً نہ جائیں۔
اسکرین پر دکھایا گیا ٹرانزیکشن ریکارڈ دیکھیں یا رسید حاصل کریں۔
صرف اس نمبر پر کال کریں جو اے ٹی ایم پر درج ہو، کسی اجنبی کے دیے گئے نمبر پر نہیں۔
فوراً اپنے بینک سے فون یا ایپ کے ذریعے رابطہ کریں تاکہ ٹرانزیکشن کی اطلاع دی جا سکے۔
مشین کے ذریعے ٹرانزیکشن منسوخ نہ کریں بلکہ براہِ راست بینک سے بات کریں۔
اگر اردگرد کوئی مشکوک فرد موجود ہو تو فوراً محفوظ جگہ پر چلے جائیں اور پولیس کو اطلاع دیں۔
ممکن ہو تو ثبوت محفوظ کریں: مشین، اسکرین، مقام اور وقت کی تصویر لے لیں۔
اگر کارڈ یا پن کے چوری ہونے کا شبہ ہو تو عارضی طور پر کارڈ بلاک کر دیں۔
بچاؤ کے طریقے:
غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب؛ وزیراعظم شہباز شریف مصر پہنچ گئے
ہمیشہ ایسے اے ٹی ایم استعمال کریں جو بینک برانچ کے اندر یا روشن اور مصروف جگہ پر ہوں۔
کارڈ ڈالنے سے پہلے مشین اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں کوئی حصہ ڈھیلا یا غیر معمولی نہ ہو۔
پن درج کرتے وقت کی پیڈ پر اپنا ہاتھ رکھ کر ڈھانپ لیں۔
کسی اجنبی کو مدد نہ کرنے دیں، اگر ضرورت ہو تو بینک کے اندر عملے سے رجوع کریں۔
یہ تمام احتیاطی تدابیر آپ کو اے ٹی ایم فراڈ سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اے ٹی ایم کے لیتے ہیں کرتے ہیں کیش سلاٹ یہ لوگ
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔