وزیراعلیٰ پنجاب کا سبزیوں کے نرخ میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز

لاہور: (آئی پی ایس) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبے میں سبزیوں اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر قابو پانے سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کے نرخ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سبزیوں کے نرخ میں کمی اور دستیابی یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ہر دکان پرنرخ نامےنمایاں طور پر آویزاں کرانے کا حکم دیا، ہر بازار کے داخلی راستے پر بھی ریٹ لسٹ آویزاں کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں پرائس کنٹرول اینڈ کماڈیٹی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تنظیم نو سے متعلق بریفنگ دی گئی، پرائس کنٹرول اینڈ کماڈیٹی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو سٹریٹجک پلان پیش کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک ایپلی کیشن کے ذریعے سنٹرل ڈیش بورڈ پرسبزیوں کی فراہمی سے متعلق تمام ڈیٹا میسر ہوگا، سبزیوں، دالوں کے سٹاک،آمد، نرخ اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی ڈیٹا ایپ کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کیا جائے گا، پرائس مانیٹرنگ اینڈ کنڑول سنٹر پر گندم کی پسائی اور آٹے کی دستیابی کا جائزہ لیا جائے گا، سبزیوں منڈیوں میں ٹرکوں کی ٹریکنگ بھی کی جا سکے گی۔

اجلاس میں پنجاب بھر میں سبزیوں کے لئے بھی یکساں طرز اور ڈیزائن کی ریڑھیاں مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پنجاب بھر کی 239مریم نواز کاشتکاربازار/سبزی منڈیوں کی یکساں برانڈنگ پر اتفاق کیا گیا، مارکیٹ سٹاف کی یکساں یونیفارم، شیڈ اور شاپس بھی ایک جیسی بنائی جائیں گی۔

فیصلہ کیا گیا کہ منڈیوں میں صفائی برقرار رکھنے کے لئے میکینکل سویپر استعمال کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں نگہبان رمضان پیکج پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، رمضان میں ہر محلے میں سستے سٹال لگانے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا، تحفظ صارف قانون کے موثر نفاذ کے لئے اقدامات جا ئزہ لیا گیا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ نرخ میں کمی کے لئے حکومت کے تمام تراقدامات کا عوامی سطح پر اثرات نظر آنے چاہئیں، سبزیوں کی ضرورت کا تعین کرکے پیشگی انتظام کیا جانا چاہئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان شہبازشریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’مین آف دی پیس‘ قرار دیدیا امریکا، مصر، ترکیہ اور قطر کے سربراہان نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کردیے وزیراعظم کی صدر ٹرمپ سمیت عالمی رہنماوں سے ملاقاتیں، فلسطین سے یکجہتی کا اعادہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر تشدد ناقابل برداشت ہے، مولانا فضل الرحمان کا سخت ردعمل روس کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ صورتحال پر اظہارِ تشویش راولپنڈی ڈویژن کے تمام اضلاع میں دفعہ 144نافذ، جلوسوں، ریلیوں، مظاہروں پر پابندی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سبزیوں کے نرخ میں

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف