تحریکِ لبیک کے امیر سمیت 56 افراد کے خلاف دہشتگردی، اقدامِ قتل اور ڈکیتی کا مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
راولپنڈی پولیس نے تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) کے امیر سمیت مقامی قیادت اور کارکنوں کے خلاف دہشتگردی، اقدامِ قتل، ڈکیتی، عوام کو اکسانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ روات پولیس نے پابندی کے باوجود شاہراہ عام بلاک کرنے، پولیس پر سیدھی فائرنگ کرنے، مزاحمت کے دوران ایمونیشن چھیننے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کرنے کے واقعات پر کارروائی کی ہے۔
مقدمہ سب انسپکٹر نجیب اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں تحریکِ لبیک کے امیر، قاری بلال سمیت 21 نامزد رہنماؤں و کارکنان اور 35 نامعلوم افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے تحریکِ لبیک پاکستان کے حالیہ احتجاجات، ریاست کا مؤقف اور زمینی حقائق
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی موقع پر ڈیوٹی پر موجود تھا جب اطلاع ملی کہ چک بیلی روڈ جٹھہ ہتھیال میں متعدد افراد ٹائر جلا کر سڑک بند کر کے احتجاج کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تحریکِ لبیک کے امیر نے لاہور سے اسلام آباد تک روڈ بلاک کرنے کی کال دی تھی، جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق قاری بلال سمیت دیگر 21 کارکنان کلاشنکوف، پیٹرول بموں اور کیلوں والے ڈنڈوں سے لیس تھے اور عوام کو اکسا رہے تھے۔
پولیس کے قریب پہنچنے پر مسلح افراد نے سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ رپورٹ کے مطابق قاری ابرار نے کلاشنکوف سے فائرنگ کی جس سے گولی کانسٹیبل عدنان کو لگی، تاہم وہ بلٹ پروف جیکٹ کے باعث محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹی ایل پی کے انتہاپسندوں کی پولیس کو یرغمال بنانے کی ویڈیو وائرل،’یہ کھلی دہشتگردی ہے‘
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ قاری دانش اور اس کے ساتھیوں نے کانسٹیبل نذیر پر تشدد کیا، وردی پھاڑ دی اور آنسو گیس کے 150 شیل چھین لیے۔
فائرنگ سے ایک سرکاری گاڑی بھی گولیوں کی زد میں آئی۔ پولیس نے اضافی نفری طلب کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔
موقع سے 10 کیلوں والے ڈنڈے، 4 پیٹرول بم، تحریکِ لبیک کے جھنڈے، چادر میں لپٹے پتھر اور چلائی گئی گولیوں کے خول قبضے میں لے لیے گئے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد نے اپنی قیادت کی ایما پر تشدد، فائرنگ اور مزاحمت کرتے ہوئے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹی ایل پی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی کے مطابق کے امیر لبیک کے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ