غزہ جنگ بندی کے بعد اٹلی فلسطین کو تسلیم کرنے کے قریب ہے، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ان کا ملک فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔
مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی امن کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میلونی نے کہا کہ ’’اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہوگیا تو اٹلی کی جانب سے فلسطین کی تسلیم شدگی یقینی طور پر قریب ہوگی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اٹلی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد جاری رکھے گا۔
اطالوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کا ملک غزہ میں استحکام لانے کے لیے عملی تعاون کرنے کو تیار ہے، حتیٰ کہ اگر اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت ضرورت پڑی تو اطالوی کارابینیری فورس کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اٹلی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، یہ ایک تاریخی دن ہے اور میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ اٹلی اس عمل کا حصہ ہے۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔